آغازِ کلام
Urdu book, p. 387
By Maulana Wahiduddin Khan
فرق یہ ہے کہ تبلیغی جماعت خوش عقیدگی کو بیدار کرتی ہے اور الرسالہ مشن آدمی کے ذہن کو۔ ایک مسلمان سے جب آپ کہتے ہیں کہ ”حضور والا مبارک طریقہ “ تو اس کے اندر چھپا ہوا عقید ت مندی کا احساس جاگ اٹھتا ہے اور وہ ”حضور والے عمل “ کو اختیار کرنے کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں الرسالہ تدبر اور تعقل کی دعوت دیتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر وہ ذہنی انقلاب لانا چاہتا ہے جس کے بعد وہ خود ذہنی فیصلہ کے تحت ایمان واسلام کو اپنی زندگی میں اپنا لے۔ ۱۱ اکتوبر ۱۹۹۰ء برٹرینڈ رسل کی ایک کتاب ہے۔ ۸۰۰ صفحہ پر مشتمل اس کتاب کا نام مغربی فلسفہ کی تاریخ (History of Western Philosophy) ہے۔ اس کتاب میں وہ یہ سوال کرتا ہے کہ فلسفہ کے پیچیدہ مسائل میں آدمی اپنے آپ کو کیوں الجھاتاہے۔ زندگی کی حقیقت کیا ہے اور کائنات کی توجیہہ کس طرح کی جاسکتی ہے۔ ان سوالات میں انسانی دماغ ہزاروں سال سے الجھا ہوا ہے۔ آخر اپنے آپ کو ان لاینحل سوالات میں مبتلا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کا جواب برٹرینڈ رسل نے ان الفاظ میں دیا ہے کہ یہ دراصل کائناتی تنہائی کی دہشتناکی (Terror of Cosmic Loneliness) ہے جو آدمی کو اس قسم کی فلسفیانہ تلاش پر مجبور کرتی ہے۔ (صفحہ ۴۱) ایک پتھر کروڑوں سال تک زمین پر پڑا رہے تو اس کو کبھی تنہائی کا احساس نہیں ہوگا۔ مگر انسان تنہائی کے احساس سے دوچار ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان عین اپنی پیدائش کے اعتبار سے ایک خدا پرست مخلوق ہے۔ انسان نفسیاتی اعتبار سے اپنے آپ کو نامکمل محسوس کرتا ہے۔ وہ صرف اس وقت احساس کی تکمیل سے دوچار ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے نفسیاتی خلا کو پر کرنے کے لئے اپنے باہر کسی چیز کو پالے۔ اس اعتبار سے انسانوں کی تین قسمیں ہیں (۱) فلسفی جو ہمیشہ اس کی تلاش میں رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ مر جاتا ہے (۲) مشرک انسان جو کسی اور چیز کو یہ مقام دے کر مصنوعی طور اپنے لئے اطمینان کا سام ناکر لیتا ہے (۳) موحد انسان جو اس فطری سوال کے صحیح جواب کو پال لیتا ہے۔ وہ اپنے احساس تنہائی کو عقیدہ خدا کے ذریعہ پر کر لیتا ہے۔ یہی آخری انسان کامیاب انسان ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader