آغازِ کلام
Urdu book, p. 388
By Maulana Wahiduddin Khan
صلیبی جنگوں کے زمانہ کے ایک مجاہد ہیں۔ ان کا نام اسامہ بن منقذ الشیزی (۵۸۴-۴۸۸ھ) ہے۔ ان کی ایک عربی کتاب الاعتبار ہے۔ یہ کتاب زیادہ تر جہاد و قتال کے واقعات و تاثرات پر مشتمل ہے۔ مثلاً ایک جگہ وہ لکھتے ہیں کہ خطرات کا مقابلہ نہ موت کو جلدی لا سکتا ہے اور نہ خوف اور احتیاط کی زیادتی لکھے ہوئے وقت کو دور کر سکتی ہے۔ ہر وقت مقرر ہے، زندگی کی ساعت مقرر ہے۔ خطرات میں گھسنا عمروں کو کم نہیں کرتا (رکوب الاخطار لا ينقص الاعمار)۔ بظاہر یہ ایک اسلامی ولولہ کی بات ہے۔ مگر مجھے اس سے کلی اتفاق نہیں۔ رکوب الاخطار اگر مطلق طور پر مطلوب ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے ہجرت کرنے کے بجائے وہاں دشمنوں سے لڑنا چاہئے تھا۔ غزوہ احزاب میں آپ کو خندق کھودنے کے بجائے براہ راست مقابلہ کرنا چاہئے۔ حدیبیہ کے موقع پر صلح کرنے کے بجائے آپ کو تصادم کرنا چاہئے تھا، وغیرہ۔ میرا احساس ہے کہ پچھلے ہزار سال کے دوران جہاد بمعنی قتال کو ضرورت سے زیادہ گلوریفائی کیا گیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دعوت کا کوئی گلوری فیکیشن نہیں کیا گیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج مسلمان ہر جگہ لڑنے بھڑنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ کیوں کہ لڑائی انھیں ہیرو دانہ کام نظر آتی ہے اور صبر و برداشت کرتے ہوئے دعوت پہنچانے والا کوئی شخص ساری دنیا میں نظر نہیں آتا، کیوں کہ موجودہ حالات میں دعوتی کام میں ”ہیرو“ والی کشش نہیں۔ ۱۳ اکتوبر ۱۹۹۰ کویت پر صدام حسین کے قبضہ کے بعد تمام سنجیدہ مسلمان صدام حسین کی جارحیت کی مذمت کر رہے ہیں۔ مگر دنیا بھر میں مسلمانوں کی اکثریت صدام حسین کی حمایت میں بول رہی ہے۔ حتی کہ صدام حسین کو مجاہد اعظم اور صلاح الدین ثانی کا خطاب دیا جا رہا ہے۔ ٹھیک یہی واقعہ اس سے پہلے کمال اتاترک، جمال عبد الناصر، معمر قذافی اور آیت اللہ خمینی کے سلسلہ میں پیش آ چکا ہے۔ ہر ایک کو اوّل عام مسلمانوں نے مجاہد اسلام کے روپ میں دیکھا۔ صرف بعد کو پیش آنے والے حالات کے بعد لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آئی۔ چھوٹے پیمانے پر یہی چیز دہلی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader