Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 389

By Maulana Wahiduddin Khan

کے امام عبد اللہ بخاری جیسے لوگوں کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ اس کی وجہ مسلمانوں کی شکست خوردہ نفسیات ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان ہزیمت کے احساس میں جی رہے ہیں۔ اس لئے جو شخص کھڑا ہو کر بڑی طاقتوں کو للکارتا ہے، وہ اس کے گرویدہ ہو جاتے ہیں، خواہ اس کا للکارنا اسٹیج کے لفظی شور وغل کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ اس صورت حال کے بے شمار نقصانات ہیں۔ اور اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان صرف لفظ باز لوگوں کو قیادت کا درجہ مل رہا ہے۔ جو لوگ سنجیدگی اور حقیقت پسندی کی بات کریں، انھیں مسلمان اپنائٹ اینڈ بنانے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۰ ۱۴ اکتوبر کو میں رام پور میں تھا۔ وہاں میں نے "جامعۃ الصالحات" کو دیکھا۔ ۱۹۵۶ء میں اس کو میں نے اس وقت دیکھا تھا جب کہ وہ محلہ کھنڈ سار کے معمولی مکان میں قائم ہوئی۔ ۳۵ سال بعد وہ اسٹیشن سے شہر آنے والی شاہراہ پر بہت بڑے رقبہ میں قائم ہے۔ اور اس کی عالی شان عمارتیں بن چکی ہیں۔ معلوم ہوا کہ کویت کے ایک شیخ نے اس کو ۵ لاکھ روپے دئیے ۔ ڈاکٹر یوسف المقریف (سابق سفیر لیبیا) نے ۸ لاکھ روپے دئیے۔ جدہ کے اسلامک ڈیولپمنٹ بنک نے رقم دی۔ اس کے علاوہ دوسرے لوگوں سے برابر عطیات ملتے رہتے ہیں۔ میں بھی "۳۵ سال" سے ایک مشن چلا رہا ہوں۔ مگر مجھ کو اس قسم کے تعاون دینے والے لوگ نہیں ملے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم گاہ لوگوں کے لئے ایک معلوم کام ہے۔ مگر دعوتی مشن لوگوں کے لئے معلوم و معروف کام نہیں جس کو لے کر میں اٹھا ہوں۔ یہ حدیث کے الفاظ میں غریب (اجنبی) کام ہے۔ پھر اس کے تعاون کے لئے لوگوں کے اندر جوش کیسے بیدار ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر عبد العظیم محمود الذیب ( پیدائش ۱۹۲۹ء) کی ایک کتاب ڈاک سے ملی۔ اس کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page