آغازِ کلام
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
کی ریڈر شپ حاصل ہے۔ اس کے برعکس اردو زبان کی بدقسمتی یہ ہے کہ اب وہ صرف کم تر قسم کے لوگوں کی زبان بن کر رہ گئی ہے۔ اردو زبان کو ترقی دینے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ اس میں اعلیٰ ادب تخلیق کیا جائے تاکہ اعلیٰ ذہنی طبقہ کے لوگ اس کو پڑھنے کی طرف متوجہ ہو سکیں۔ اس کے سوا اردو زبان کو ترقی دینے کی اور کوئی صورت نہیں۔ ۲۱ فروری ۱۹۸۹ ۷ فروری ۱۹۸۹ کو ٹائمز آف انڈیا اور دوسرے اخبارات میں صفحہ اول پر یہ خبر تھی کہ ایران کے امام خمینی نے اعلان کیا ہے کہ "سیٹنگ ورنز" کے مصنف سلمان رشدی کو قتل کر دیا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایرانی سلمان رشدی کو قتل کرے گا تو اس کو ۲۶ لاکھ ڈالر ($ 2.6 million) انعام دیا جائے گا۔ اور اگر غیر ایرانی قتل کرے گا تو اس کو ۱۰ لاکھ ڈالر ($ 1 million) دیے جائیں گے۔ سلمان رشدی انگلینڈ کے شہری ہیں۔ خمینی کے اس اعلان کے بعد ہر طرف کھلبلی مچ گئی۔ آخر کار ۱۹ فروری کو یہ جرأت کی کہ سلمان رشدی نے اپنی مذکورہ نزامی کتاب پر معافی مانگ لی۔ اگرچہ ایرانی حکومت نے اس کے بعد بھی اس کی جاں بخشی نہیں کی۔ اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے مسٹر آرن شرما (دہلی کے انگلش جرنلسٹ) نے کہا کہ خمینی نے اس بات کو یقینی بنا دیا کہ اب صدیوں تک یہ کتاب چھپتی رہے: Khomeini has ensured reprint of Satanic Verses for centuries to come. ٹائمز آف انڈیا (۲۱ فروری ۱۹۸۹) میں صفحہ آخر پر ایک رپورٹ درج ہے جس میں سلمان رشدی کی کتاب پر مختلف لوگوں کے تبصرے نقل کئے گئے ہیں۔ خوشونت سنگھ نے کہا کہ ناول کی حیثیت سے بھی شیطانی آیات کوئی پڑھنے کے قابل کتاب نہیں: Even as a novel 'The Satanic Verses' is not readable. مسلمان اگر اس کے خلاف شور و غل نہ کرتے تو یہ کتاب اپنے آپ ختم ہو جاتی۔ مگر انہوں نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader