Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 390

By Maulana Wahiduddin Khan

نام المنهج في كتابات الغربيين عن التاريخ الإسلامي ہے ۔ وہ ۱۳۰ صفحات پر مشتمل ہے ۔ اور ربیع الثانی ۱۴۱۱ میں قظر سے چھپی ہے۔ مصنف کہتے ہیں کہ انیسویں صدی کے آغاز سے لے کر بیسویں صدی عیسوی کے وسط تک مستشرق علماء نے ساٹھ ہزار کتابیں اسلام کے بارہ میں شائع کی ہیں۔ ان کتابوں کا مقصد کیا ہے۔ ان کا ایک خاص مقصد یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کو اسلام سے منحرف کر دیا جائے۔ اپنے اس مقصد میں وہ کافی کامیاب ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ محمد حسین مرحوم کے الفاظ میں ہمارے قلعوں کے لئے آج خود ہمارے اندر سے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ (حصوننا مهددة من داخلھا ، صفحہ ۳۵) یہ صحیح ہے کہ ہماری نئی نسل اسلام کے بارہ میں شک و شبہ میں مبتلا ہوئی ہے۔ مگر اس کی اصل وجہ مستشرقین کی کتابیں نہیں۔ اس کی زیادہ بڑی وجہ یہ ہے کہ خود مسلم علماء اسلام کو وقت کے فکری مستویٰ پر پیش نہ کرسکے۔ بیرونی خطرات ہمیشہ موجود تھے اور ہمیشہ موجود رہیں گے۔ لیکن اگر ہم طاقت ور اسلوب میں اسلامی لٹریچر پیش کرسکیں تو اسلام کے خلاف ہر خطرہ اور ہر سازش انشاء اللہ غیر مؤثر ہو کر رہ جائے گی۔ ۱۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء یزید بن ہارون السلمی (م ۲۰۶ھ) مشہور تبع تابعی ہیں۔ وہ تفسیر، حدیث، فقہ وغیرہ تمام اسلامی علوم میں اعلیٰ دستگاہ رکھتے تھے۔ اس زمانہ کے تمام علماء نے ان کے علم و فضل کی تصدیق کی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ ایک متقی انسان بھی تھے۔ تذکرۃ الحفاظ میں ان کی بابت ایک قول ان الفاظ میں درج کیا گیا ہے : کان من خیار عباد الله (۲/ ۲۰۵) یزید بن ہارون نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن واسط میں حاصل کی۔ اس کے بعد علم کے حصول کے لئے دوسرے ملکوں کا سفر کیا۔ وہ اپنے بارہ میں کہتے ہیں کہ میں اس وقت علم سے آگاہ نہ ہو سکا جب تک میں واسط سے باہر نہیں نکلا (ما عرفت حتی خرجت من واسط) یہ قول سفر کی اہمیت کو بتاتا ہے ۔ میرا اپنا حال بھی یہی ہے۔ پچھلے ۲۰ برسوں میں میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page