آغازِ کلام
Urdu book, p. 391
By Maulana Wahiduddin Khan
نے جو اسفار کئے ہیں ان سے مجھے بہت فائدہ ہوا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے میرے لئے ان سفروں کی صورتیں پیدا فرمائیں۔ اگر یہ اسفار پیش نہ آتے تو یقیناً میں علم و معرفت کے معاملے میں بہت ناقص رہتا۔ ۱۷ اکتوبر ۱۹۹۰ء مرزا مظہر جانجاناں (۱۱۶۵۔ ۱۱۱۱ھ) مشہور بزرگ ہیں۔ وہ شہنشاہ اورنگ زیب کے ہم زمانہ تھے۔ اور نگ زیب ہی نے ان کا نام "جان جاں" رکھا جو بعد کو جانجاناں ہو گیا۔ مرزا مظہر جانجاناں دہلی میں رہتے تھے۔ آئے دن سیاسی شورشوں کے واقعات ان کے کان میں پڑتے تھے۔ ان واقعات سے اکتا کر ایک بار انھوں نے کہا : از تشویشات ہر روزۂ دہلی تنگ آمدهام، دہلی کی روز روز کی تشویشناک خبروں سے میں تنگ آگیا ہوں۔ مرزا مظہر جانجاناں ایک ایسے شخص تھے جو تحمل اور ایثار اور دنیا سے بے رغبتی میں ممتاز تھے۔ نیز یہ مسلم سلطنت کا زمانہ تھا۔ اس کے باوجود مذکورہ الفاظ ان کی زبان سے نکل گئے ۔ پھر آج کے حالات میں اگر مسلمانوں کو مذکورہ قسم کی تشویشناکی کا تجربہ ہو تو اس پر احتجاج کرنے کے بجائے انھیں سوچنا چاہئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مسلم سلطنت میں بھی تشویش کے حالات تھے اور آج ” غیر مسلم سلطنت “ میں بھی تشویش کے حالات ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں اچھے برے ہر انسان کو آزادی ہے۔ اس لئے یہاں ہمیشہ ہر قسم کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ موجودہ دنیا میں آئیڈیل زندگی کا بننا ممکن نہیں۔ اس لئے اس دنیا میں احتجاج کے بجائے حکمت اور تدبیر کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے، اور اس کے ساتھ بوقت ضرورت صبر کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے۔ ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۰ء جدید سائنسی نظریہ یہ ہے کہ ہماری دنیا ایک جوڑے کی صورت میں ہے۔ یعنی موجودہ دنیا کے علاوہ اسی قسم کی ایک اور زیادہ بہتر دنیا ہے۔ وہ اگرچہ دکھائی نہیں دیتی مگر وہ کائنات کے اندر موجود ہے۔ مجھے یہ نظریہ درست معلوم ہوتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کامل دنیا بنائی۔ پھر اس کا ایک وقتی اور ر غیر کامل مثنیٰ بنایا۔ آج انسان دنیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader