Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 392

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اسی شنیٰ پر ہے۔ وہ یہاں آزمائش کے لئے آیا ہے۔ جو افراد اپنے آپ کو خدا کی دنیا کا مطلوب شہری ثابت کریں گے، ان کو آئندہ اصلی اور کامل دنیا میں بسایا جائے گا تاکہ وہ وہاں ابدی طور پر راحت اور عیش کی زندگی گزارتے رہیں۔ مگر موجودہ انسان کو دیکھتے تو بڑی مایوس کن تصویر سامنے آتی ہے۔ انسان اپنی غلط کاری اور سرکشی کے ذریعہ یہ استحقاق کھو رہا ہے کہ اس کو دوبارہ خدا کی پاک دنیا میں بسایا جائے۔ ہر آدمی اپنی نا اہلی ثابت کرنے میں مشغول ہے، کوئی بھی شخص اپنی اہلیت ثابت کرنے والا دکھائی نہیں دیتا۔ ۱۹ اکتوبر ۱۹۹۰ ماہنامہ جامعہ (دہلی) کے شمارہ اگست ۱۹۹۰ میں ڈاکٹر محمد محمود فیض آبادی کا ایک مضمون چھپا ہے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبہ سیاسیات میں ریڈر ہیں۔ مضمون کا عنوان ہے : "ڈاکٹر سید محمود اور قومی سیاست" ڈاکٹر سید محمود (۱۷۱۹-۱۸۸۹) غازی پور میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ سیاسی اعتبار سے وہ کانگریس سے تھے۔ اس بنا پر مسلم لیگی ان کے سخت مخالف ہو گئے۔ مضمون کا ایک اقتباس یہ ہے : "بہار میں کانگریس اور لیگ کی کش کش کے نتیجہ میں سید محمود کو اور ان کے خاندان کو تقسیم ہند تک مسلم لیگ کے سماجی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ چچہرا سے اپنے خط مورخہ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ میں جو جواہر لال نہرو کو لکھتے ہیں یہاں مسلم لیگیوں نے کنونینگ کر کے لوگوں کو منع کر دیا کہ کوئی مسلمان میری خوش دامن کی تجہیز و تکفین میں شریک نہ ہو، کیوں کہ میرا خاندان کانگریس سے تعلق رکھتا ہے۔ گھر میں مستورات اور چند ملازموں کے سوا کوئی نہ تھا۔ جب میرے لڑکے کے وفات کے دوسرے دن پٹنہ سے یہاں پہنچے تو میت کو دفن کرنے کا انتظام ہو سکا۔ فقط خاندان کے دس پندرہ افراد شریک ہوئے۔ مسلمانوں میں کسی کی توہین کا اس سے بڑھ کر کوئی طریقہ سوچا نہیں جا سکتا۔" (صفحه (۱۲) یہ مزاج جو مسلم لیگیوں نے مسلمانوں میں پیدا کیا تھا، ۱۹۴۷ کے بعد ہندوستان کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page