Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 393

By Maulana Wahiduddin Khan

حالات میں وہ کسی قدر دب گیا، مگر پاکستان میں مسلمانوں کے موجودہ باہمی جھگڑے تمام تراسی مزاج کا نتیجہ ہیں۔ منڈل کمیشن نے سفارش کی تھی کہ ہریجنوں کو اور نچلے طبقات کو سرکاری ملازمتوں میں ۲۷ فیصد ریزرویشن دیا جائے۔ اس کے خلاف دہلی (اور دوسرے مقامات) میں اینٹی ریزرویشن تحریک چلی۔ حکومت نے اس پر توجہ نہ دی۔ چنانچہ درجنوں نوجوانوں نے خود سوزی کے ذریعہ اپنے آپ کو ہلاک یا زخمی کر لیا۔ اس کے بعد ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۰ء کو دیوالی کی تاریخ تھی۔ "اینٹی منڈل کمیشن فورم" اور دوسری کئی ہندو تنظیموں نے اپیل جاری کی کہ پچھلے چند مہینوں میں اینٹی ریزرویشن تحریک کے دوران جن نوجوانوں نے اپنی جان دیدی ہے۔ ان کے لئے نشان احترام (mark of respect) کے طور پر اس سال دیوالی کا جشن نہ منایا جائے اور پٹاخہ بالکل نہ چھوڑا جائے (ہندوستان ٹائinfs ۱۹ اکتوبر)، مگر دیوالی کی رات کو اس کے آگے اور پیچھے اسی دھوم کے ساتھ پٹاخے چھوڑے گئے۔ جس طرح اور سالوں میں چھوڑے جاتے تھے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ دیوالی میں پٹاخہ چھوڑنا محض بچوں کا ایک کھیل نہیں ہے، اس کا تعلق ہندوؤں کے مذہبی عقیدہ سے ہے۔ ہندو اپنے عقیدہ کے مطابق یہ سمجھتے ہیں کہ دیوالی کی رات کو پٹاخہ چھوڑنے سے دلدر نکلتا ہے اور لکشمی گھر کے اندر آتی ہے۔ ایسی حالت میں وہ کیوں کر اس سے باز رہ سکتے ہیں۔ دیوالی کی آتش بازی میں ہر سال سیکڑوں آدمی زخمی ہوتے ہیں یا مر جاتے ہیں مسلسل شور کی وجہ سے رات کے وقت سونا مشکل ہو جاتا ہے۔ دھوئیں اور گیس کی وجہ سے فضا انتہائی کثیف ہو جاتی ہے۔ ہندوستان ٹائمس (۱۳ اکتوبر) کے مطابق، نیشنل سوسائٹی فار دی پریوشن آف بلائنڈلس (NSPB) نے اور دوسری طبی تنظیموں نے اپیل جاری کی کہ پٹاخہ اور آتشبازی میں سخت احتیاط برتی جائے کیوں کہ وہ آنکھوں کے لئے سخت مضر ہے۔ دہلی میں ۱۵ مہینوں کی مدت میں ۱۹۳ آدمیوں کی آنکھ جا پہنچی گئی۔ یہ مدت دیوالی کے دو تہواروں کو کور کر رہی تھی۔ اس جانچ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page