Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 394

By Maulana Wahiduddin Khan

میں پایا گیا کہ آتش بازی سے آنکھ خراب ہونے والوں میں تقریباً ۸۵ فیصد وہ تھے جن کی آنکھ دیوالی کی آتش بازی میں خراب ہوئی تھی۔ پیسے کے اسراف کے علاوہ اس طرح کے مختلف نقصانات ہیں جو دیوالی کی پٹاخہ بازی سے وابستہ ہیں۔ مگر کوئی بھی تحریک اس کو بند کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ اس کا رشتہ مذہبی عقیدہ سے جڑا ہوا ہے۔ مشرکانہ مذاہب نے کیسے کیسے نازک مسائل انسان کے لئے پیدا کر دئے ہیں۔ ۲۱ اکتوبر ۱۹۹۰ ایک مصری مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ مصر کے مسلمانوں میں یہ کہا جاتا ہے کہ : من نام واستراح ، جاء النجاح فی الصباح (جو شخص سو جائے اور آرام کرے وہ صبح تک کامیاب ہو جائے گا)۔ یہ دراصل طنز ہے۔ مصر کے عیسائیوں نے محنت کو اپنا شعار بنایا اور مسلمانوں نے کاہلی کو۔ اس پر یہ طنزیہ فقرہ کہا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ فاطمیوں کے زمانہ (۹۶۹ - ۱۱۷۲) اور اس کے بعد عیسائیوں پر کچھ مظالم ہوئے۔ اولاً عیسائیوں نے رد عمل ظاہر کیا۔ مگر ان کا رد عمل ان کے لئے مزید ہلاکت کا سبب بنا۔ (۴۱۷ / ۶) اس کے بعد انھوں نے اپنی شینگ کی اور طے کیا کہ ہم کو ٹکر آلو چھوڑ کر صرف علم پر اپنی طاقت لگانا ہے۔ ہم کو ہر قیمت پر صرف پڑھنا ہے۔ ۲۵ سال تک انھوں نے اپنی پوری نسل کو پڑھنے پر لگایا۔ اس کے بعد تاریخ بدل گئی۔ آج مصر کے آٹھ ملین عیسائی مصر کی سب سے زیادہ خوش حال کمیونٹی ہیں۔ وہ مصر میں علمی اداروں ، سروسوں اور تجارتوں میں اپنے عددی تناسب سے بہت زیادہ حصہ پر قابض ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو بھی یہی کرنا تھا۔ مگر ان کے یہاں کوئی ایسا رہنما نہیں اٹھا جو انھیں اس قسم کی رہنمائی دے۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ بار بار ٹھکر آؤ کر کے یک طرفہ طور پر تباہ ہو رہے ہیں۔ ۲۲ اکتوبر ۱۹۹۰ جامی (۱۳۹۲ - ۱۴۹۲ء) ایک مشہور صوفی اور عالم تھے۔ ان کا ایک فارسی شعر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب بھی میں نماز کے لئے مسجد میں داخل ہوا اور سجدہ کیا تو اِدھر سے آواز آئی کہ تو نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page