آغازِ کلام
Urdu book, p. 395
By Maulana Wahiduddin Khan
گھر کے باہر کیا گیا ہے جو تم گھر کے اندر داخل ہوئے ہو : تو برون درچہ کردی کہ درون خانہ آئی میں نے اس مصرعہ کو پڑھا تو خیال آیا کہ یہی معاملہ انسان پر آخرت میں گزرے گا۔ انسان دنیا سے گزر کر آخرت کے عالم میں پہنچے گا کہ وہ اپنے رب کے قریب ہوا اور اس کے پڑوس میں رہنے کے لئے ایک جگہ حاصل کرے۔ اس وقت خدا کہے گا کہ اے انسان، تو نے دنیا میں میرے لئے کیا کیا کہ اب تم آخرت میں مجھ سے امیدوار بن کر آئے ہو۔ جب تم نے باہر کچھ نہیں کیا تو اب اندر“ بھی تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں۔ یہاں سے نکل جاؤ اور ابد تک اندھیرے صحرا میں بھٹکتے رہو۔ ۲۳ اکتوبر ۱۹۹۰ امریکہ کے صدر جارج بش نے پاکستان کو انتباہ دیا تھا کہ ۴۲ اکتوبر کو ہونے والے الیکشن سے اگر بے نظیر بھٹو کو حصہ لینے سے روکا گیا یا منصفانہ الیکشن کے بجائے rigged election کرایا گیا تو امریکہ اس کے بعد پاکستان کو ملنے والی ۶۰ کروڑ ڈالر سالانہ کی امداد بند کر دے گا۔ اس پر پاکستان کے صدر غلام اسحاق خاں اور جنرل مرزا اسلم بیگ نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، اور ہم کسی قیمت پر مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے۔ میں نے اس خبر کو پڑھا تو میں نے کہا کہ اسحاق خاں اور اسلم بیگ کے ہاتھ میں ”عہدہ“ کا قلم ہے، ان کے ہاتھ میں ”تاریخ“ کا قلم نہیں۔ اس سے پہلے یحییٰ خاں اور ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھ میں عہدہ کا قلم تھا۔ مگر انھوں نے سمجھ لیا کہ وہ تاریخ کے اوپر حاکمانہ حیثیت رکھتے ہیں۔ اس غلط نہی کا نتیجہ یہ ہوا کہ 19۷۱ میں مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ اب اگر پاکستان کے موجودہ حکمران یہ سمجھ لیں کہ وہ تاریخ کے حاکم ہیں تو دوبارہ وہ پاکستان کی ہلاکت کا سبب بنیں گے۔ ایک لیڈر جو کسی ملک میں عوامی مقبولیت کا درجہ رکھتا ہو، اس کو مصنوعی تدبیروں سے روکنا ایک ایسا فعل ہے جو ملک کی تباہی کے سوا اور کہیں نہیں لے جاسکتا۔ پاکستان کی بہترین خیر خواہی یہ ہے کہ الیکشن پر اس کو بلا روک جاری رکھا جائۓ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader