Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 396

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگ دوسروں پر بریک لگانے کے لئے نہ دوڑیں بلکہ اپنے اپنے ممکن دائروں میں کام کریں۔ جو جیتے اس کی جیت کو تسلیم کیا جائے اور جو ہارے وہ اپنی ہار کو مان کر خاموش عمل میں مشغول ہو جائے ۔ ۲۴ اکتوبر ۱۹۹۰ المجلہ ایک ہفتہ وار عربی میگزین ہے۔ اس کا ہیڈ آفس جدہ میں ہے اور وہ لندن سے شائع ہوتا ہے۔ وہ سعودی عرب کے خرچ پر نکل رہا ہے۔ اس وقت میرے ہاتھ میں اس کا شمارہ ۱۹ - ۲۵ ستمبر ہے۔ اس پورے پرچہ میں خلیج کے بحران پر مضامین ہیں۔ صدام حسین کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے بغداد میں ایک ہوٹل ” الرشید“ کے نام سے بنوایا۔ اس پر ۳۰۰ ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ ایک ایک کمرہ پر ایک ایک ملین ڈالر خرچ کیا گیا۔ وہ ۱۹۸۲ میں ہونے والی حکمرانوں کی کانفرنس کے لئے بنایا گیا تھا۔ مگر یہ کانفرنس منعقد نہ ہوسکی۔ واضح ہو کہ ۱۹۸۲ میں عراق کے اوپر ۲۰ بلین ڈالر قرض تھا جو بڑھتا ہی جارہا ہے (۳۲-۳۳) مجلہ کے صفحہ ۲ - ۳ پر رونسٹن سگریٹ کا نمایاں اشتہار ہے۔ دو خوش پوش عرب نوجوان ہاتھوں میں جلتا ہوا سگریٹ لئے ہوئے مسکرا رہے ہیں۔ اس کے اوپر لکھا ہوا ہے: توج نجاحك بنكهة ونستون (اپنی کامیابی کو ونٹن کی خوشبو کا تاج پہناؤ) اسی کے ساتھ اشتہار کے نیچے نسبتاً خفی خط میں یہ جملہ درج ہے : تحذير حكومى : التدخين يضر بصحتك ونصحك بالامتناع عنه۔ قانونی وارننگ، سگریٹ پینا آپ کی صحت کے لئے مضر ہے اور ہماری نصیحت ہے کہ آپ سگریٹ نہ پئیں ۔ ایک طرف سگریٹ کو کامیابی کاراز بتانا اور دوسری طرف سگریٹ کو نقصان دہ بتا کر اس سے بچنے کا مشورہ دینا کس قدر مضحکہ خیز ہے۔ مگر آج اکثر ملکوں میں یہ مضحکہ خیز صورتحال قائم ہے۔ صدام حسین کا مذکورہ ہوٹل بنوانا جتنا بے معنی ہے، اتنا ہی بے معنی سگریٹ کا یہ اشتہار بھی ہے۔ ہمارے علماء اور واعظین امت محمدی کو امت مرحومہ کہتے ہیں۔ یعنی وہ امت جس کے لئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page