آغازِ کلام
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
ساتھ اس کو نصیحت کرتا۔ اگر کوئی مسلمان ایسا کرتا تو اللہ کی نظر میں وہ سب سے بڑا واقعہ ہوتا۔ مگر اخبار والوں کے نزدیک وہ اتنا غیر اہم ہوتا کہ گوشہ کی چند سطری خبر میں بھی اس کو جگہ نہ ملتی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان ان کاموں کو تو بہت دھوم کے ساتھ کر رہے ہیں جو اخبار والوں کے نزدیک اہم ہیں۔ مگر ان کاموں سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے یہاں اہمیت رکھتے ہیں۔ بلاشبہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔ ۲۴ فروری ۱۹۸۹ اخبار قومی آواز (۲۴ فروری ۱۹۸۹) میں ایک مسلم لیڈر کا مراسلہ چھپا ہے۔ وہ سلمان رشدی کی کتاب (The Satanic Verses) کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسلمان اپنے رسول کی توہین کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتا۔ آجکل ہر مسلم اخبار یا رسالہ میں اسی قسم کے الفاظ چھپ رہے ہیں۔ میرے نزدیک یہ مسلمانوں کا اپنا بنایا ہوا دین ہے۔ اس کا خدا اور رسول کے دین سے کوئی تعلق نہیں۔ خدا اور رسول کے دین میں اصل اہمیت دعوت کی ہے۔ نہ کہ ان چیزوں کی جن کو موجودہ مسلمان اہمیت دیتے ہوئے ہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ مسلمان دعوت کے مواقع کی بربادی کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتا۔ مسلمانوں نے سلمان رشدی کے خلاف جو شور و غل کیا ہے۔ اس کا واحد نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دعوت کے مواقع ناقابل تلافی حد تک برباد ہو گئے۔ سلمان رشدی نے مذکورہ کتاب لکھ کر اپنے آپ کو بدنام کیا تھا مگر مسلم رہنماؤں نے اس کے خلاف ہنگامہ کر کے اسلام کو بدنام کیا ہے۔ اصل اہمیت کی چیز مواقع دعوت کا تحفظ تھا نہ کہ "توہین رسول" پر بھڑک کر قتل و غارت گری شروع کر دینا۔ اسلامی عمل وہ ہے جو انجام کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader