Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹائمز آف انڈیا (۲۴ فروری ۱۹۸۹) کی رپورٹ کے مطابق، دہلی میں انگریزی ادیبوں اور ڈائریکٹروں کا ایک فیسٹیول (Festival) ہوا۔ اس موقع پر مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ مسٹر خوشونت سنگھ نے اپنی تقریر میں کہا کہ لکھنے والے کو ہمیشہ تخلیقی چیز لکھنا چاہئے: A writer should only do creative writing. مگر حالات آدمی کو تخلیق بننے نہیں دیتے۔ انھوں نے کہا کہ ہم میں سے کچھ لوگ جنھوں نے تخلیقی ادب کی حیثیت سے اپنی زندگی کا آغاز کیا، وہ پستی صحافت میں چلے گئے۔ ایسا انھیں محض پیسہ کی خاطر کرنا پڑا: Some of us who started out as creative writers went into journalism, mainly because of money. یہی معاملہ آجکل ہر ایک کا ہو رہا ہے۔ مسلم رہنما ابتدا تعمیری کام کا جذبہ لے کر اٹھتے ہیں۔ مگر جلد ہی وہ دیکھتے ہیں کہ تعمیری کام کے ذریعہ وہ قوم کے اندر اپنا مقام پیدا نہیں کر سکتے۔ چنانچہ جلد ہی وہ جذباتى سیاست کی طرف مڑ جاتے ہیں۔ اور پھر موت تک اسی پر قائم رہتے ہیں۔ نہ کوئی شخص ایسا کر پاتا کہ وہ غیر مقبولیت کو برداشت کرتے ہوئے تعمیری نقشہ پر قائم رہے۔ اور نہ کوئی ایسا نظر آتا جو ایک بار انحراف کرنے کے بعد دوبارہ اپنے سابقہ موقف کی طرف لوٹے ۔ اس کی وجہ میرے نزدیک معرفت کی کمی ہے۔ جن لوگوں نے ابتدا سے تعمیری کام کرنا چاہا ، ان کے اس ارادہ کے پیچھے کوئی گہرا عرفان شامل نہ تھا۔ گہرا عرفان اپنی قیمت آپ ہوتا ہے ۔ جو شخص گہرے عرفان کی بنیاد پر اٹھے، اس کا یہ احساس ہی اس کے اطمینان کے لئے کافی ہوتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ ایسے شخص کو یہ خارجی واقعہ کبھی متزلزل نہیں کرتا کہ وہ لوگوں کے اندر مقبولیت کا درجہ حاصل نہ کر سکا۔ روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ میری بخشش نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ میں نے بہت زیادہ گناہ (ذنوب) کئے ہیں۔ آپ نے کہا کہ تمہارا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page