Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

گناہ بڑا ہے کہ زمین (ذنبک اعظم ام الارض)، اس نے کہا کہ میرا ذنب زمین سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ پھر آپ نے کہا کہ تمہارا گناہ بڑا ہے کہ آسمان (ذنبک اعظم ام السماو)، اس نے کہا کہ میرا گناہ آسمان سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا گناہ بڑا ہے کہ عرش (ذنبک اعظم ام العرش)، اس نے کہا کہ میرا گناہ عرش سے بھی بڑا ہے۔ آخر میں آپ نے فرمایا کہ تمہارا گناہ بڑا ہے یا اللہ (ذنبک اعظم ام اللہ)، اب آدمی کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہ تھا۔ اس نے کہا کہ یقینا اللہ ہر چیز سے زیادہ بڑا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ پھر تمہیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ روایت سند کے اعتبار سے قوی نہیں، مگر معنی کے اعتبار سے بالکل درست ہے۔ یہ اس انسان کی نفسیات کو بتاتی ہے جو گناہ کرنے کے باوجود اللہ سے ڈرتا ہو۔ اگر اس کا احساس واقعہ اسی درجہ کا ہے جو اوپر کی مثال میں نظر آتا ہے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دیں گے۔ ۲۷ فروری ۱۹۸۹ مغل حکمران شاہجہاں نے ایک بار کوئی منتظر دیکھا۔ اس کے زیر اثر اس کی زبان پر یہ فقرہ آگیا: نیمے دروں نیمے بروں (آدھا اندر، آدھا باہر) شاہ جہاں نے اپنے دربار کے لوگوں سے کہا کہ اس فقرہ کو ملا کر ایک پورا شعر بناؤ۔ ہر ایک نے کوشش کی۔ محمد بادشاہ کے شایان شان کوئی شعر نہیں بنا۔ آخر ایک شاعر نے ایک شعر موزوں کیا جو شاہ جہاں کو پسند آیا۔ اور اس نے اس شاعر کو بہت انعام دیا۔ وہ شعر یہ تھا : از ہیبتِ شاہ جہاں لرز زمین و آسمان انگشت حیرت در دہاں نیمے دروں نیمے بروں لفظی خیال آرائی کی دنیا میں سارے زمین و آسمان شاہ جہاں کی ہیبت سے کانپ اٹھے تھے۔ مگر حقیقت کی دنیا میں شاہ جہاں اتنا کمزور و ثابت ہوا کہ خود اس کے لڑکے (اورنگ زیب) نے اس کو گرفتار کر کے جیل خانہ میں بند کر دیا۔ اور اسی قید کی حالت میں اس کا انتقال ہو گیا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان اسی طرح لفظوں کے آسمانی قلعے بناتے رہے۔ مگر جب حقیقت سے ٹکراؤ ہوا تو معلوم ہوا کہ ان کے قلعے کی حیثیت ایک غبارے سے زیادہ نہ تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page