Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈاکٹر شاہد رشید صابری (ایمیٹی)، نے ۲۱ جنوری ، ۱۹۸۹ کو ایمیٹی میں مطب شروع کیا۔ ۱۳ ستمبر ۱۹۸۹ کے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ وہ اپنے مطب میں اکیلے تھے۔ ایک ہندو نوجوان (عمر ۳۵ سال) ان کے مطب میں داخل ہوا۔ وہ رندھیری (ضلع سہارنپور) کا رہنے والا تھا۔ اس کو مقعد میں زخم کی بیماری تھی۔ تقریباً دس سال سے مواد جاری تھا۔ مختلف علاج کے بعد آخر کار وہ ڈاکٹر شاہد کے پاس آیا۔ ڈاکٹر شاہد نے مواد دکھانے کے لئے پنسلین کا انجکشن دیا۔ اس کے بعد جب وہ مطب سے اٹھ کر جانے لگا تو چند قدم چلتے ہی وہ گر پڑا اور بیہوش ہو گیا۔ اس کے منہ سے جھاگ نکلنے لگا۔ ڈاکٹر شاہد کی پریکٹس ابھی نئی نہیں تھی۔ وہ اچانک اس حادثہ سے گھبرا اٹھے۔ دوبارہ افاقہ کے لئے انھوں نے مختلف انجکشن دینے شروع کئے۔ یہاں تک کہ ۲۴ مختلف انجکشن دے ڈالے۔ انھوں نے بتایا کہ مریض کی نبض اور دل کی حرکت بالکل بند ہوگئی۔ بظاہر وہ مر گیا۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کی موت خود میرے مطب کی موت ہے۔ چنانچہ میں نے دل سے دعائیں شروع کیں۔ مسلسل اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتا رہا اور انجکشن لگاتا رہا اور دل کی مالش کرتا رہا۔ یہاں تک کہ مریض کے اندر حرکت پیدا ہوئی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ گویا کہ ایک مرا ہوا شخص زندہ ہو گیا۔ میرے مطب سے واپس جانے کے بعد وہ شخص نارمل حالت میں زندہ رہا۔ اس کے چار ماہ بعد اچانک اس کا انتقال ہو گیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی دعا اللہ تعالیٰ نے سنی اور مذکورہ ہندو نوجوان کی عمر میں چار ماہ کا اضافہ کر دیا۔ یہ واقعہ بظاہر اس حدیث کے مطابق ہے جو ترمذی میں ان الفاظ میں آئی ہے: لا يرد القضاء الا الدعاء ، ولا يزيد في العمر الا البر۔ (اللہ کے فیصلے کو دعا کے سوا اور کوئی چیز نہیں ٹالتی۔ اور عمر میں نیکی کے سوا کسی اور چیز سے اضافہ نہیں ہوتا۔ (مشکوۃ، جلد ثانی صفحہ ۶۹۳) یکم مارچ ۱۹۸۹ ڈاکٹر شاہد صابری (پیدائش ۱۹۵۱) ملاقات کے لئے آئے۔ وہ ایمیٹی (ضلع سہارنپور)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page