آغازِ کلام
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
میں مطلب کرتے ہیں۔ رسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ یہاں کی تمام کتابیں بھی پڑھ چکے ہیں۔ وہ نہ صرف رسالہ کے مشن سے متفق ہیں بلکہ اس پر پوری طرح عامل بھی ہیں۔ انھوں نے اپنے کئی واقعات بتائے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ایٹھی میں چار ایکڑ رقبہ کی ایک زمین خریدی۔ اور ناپ کر اس کی مینڈ بنوا دی۔ یہ ۱۹۷۸ کا واقعہ ہے۔ یہ زمین ہندوؤں کے مرگٹ سے ملی ہوئی تھی۔ چنانچہ جن سنگھ ہندوؤں نے یہ مشہور کیا کہ ڈاکٹر شاہد نے مرگٹ کی زمین اپنے کھیت میں ملالی۔ بڑے جذباتی انداز میں میرے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا۔ مثلاً یہ کہ ڈاکٹر شاہد نے ہمارے مردوں کے اوپر ٹریکٹر چلوا دیا۔ وغیرہ۔ ڈاکٹر شاہد نے جنوری ۱۹۷۷ء میں یہاں پریکٹس شروع کی تھی۔ ان کی پریکٹس بہت کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے۔ چنانچہ بعض ہندو ڈاکٹروں کو جلن ہوئی اور انھوں نے ان کی پریکٹس کو ڈاؤن کرنے کے لئے یہ فرقہ وارانہ شوشہ چھوڑا۔ ڈاکٹر شاہد اس پر برہم نہیں ہوئے۔ وہ ٹھنڈے طریقہ سے ہندو پٹواری کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ آپ چل کر زمین کو ناپ دیں اور اگر اس میں مرگٹ کی زمین نکلتی ہے تو میں اس کو فورا واپس کرنے کے لئے تیار ہوں۔ مقامی جن سنگھی لیڈر حکم چند جین سے بھی انھوں نے یہی بات کہی۔ پٹواری اور دوسرے ہندو مقررہ وقت پر وہاں آئے اور زمین کی پیمائش کی گئی تو معلوم ہوا کہ جن سنگھی لوگوں کی شکایت بالکل غلط تھی۔ بلکہ پیمائش کے مطابق خود ڈاکٹر شاہد صاحب کی زمین کا کچھ حصہ مرگٹ کی زمین میں نکلا۔ انھوں نے کہا کہ میں اس کو مرگٹ کے لئے چھوڑ دیتا ہوں جن سنگھی لیڈر حکم چند جین ڈاکٹر صاحب کی شرافت کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ اس نے کہا کہ واقعہ یہ ہے کہ ہمیں لوگ غلطی پر تھے۔ آپ یقیناً ایک سچے آدمی ہیں۔ یہ تاثر اتنا بڑھا کہ نومبر ۱۹۸۸ میں ایٹھی میں چیئرمین کی جگہ کے لئے الیکشن ہوا تو حکم چند جین ایک سابق ایم ایل اے کو لے کر ڈاکٹر شاہد صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ ہم سب آپ ہی کو چیئرمین کے لئے سب سے بہتر سمجھتے ہیں۔ آپ اس کے لئے کھڑے ہو جائیے۔ ہم آپ کو اطمینان دلاتے ہیں کہ کوئی ہندو آپ کے مقابلہ میں نہیں کھڑا ہوگا۔ اور آپ یقیناً جیت جائیں گے۔ ڈاکٹر شاہد نے یہ کہہ کر معذرت کر دی کہ آپ کا شکریہ۔ مگر میں سیاست سے بہت دور رہنا چاہتا ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader