Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

اکبر کو جمع کیجئے اور اتحاد کے مسئلہ پر لوگوں کو توجہ دلائیے۔ میں نے کہا کہ کانفرنسوں سے اگر اتحاد قائم ہو سکتا تو اب تک اسے قائم ہو جانا چاہئے۔ کیوں کہ ملت کے اندر اتحاد کانفرنسیں اتنی زیادہ ہو چکی ہیں کہ ان کی گنتی نہیں کی جاسکتی۔ انھوں نے کہا کہ پھر اتحاد کی تدبیر کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اتحاد کے لئے اتحاد کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملت کے اندر وہ استعداد موجود نہیں جس پر اتحاد کی تعمیر ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ استعداد سے آپ کی مراد کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس سے مراد ہے ملت کے افراد کے اندر اس شعور کی موجودگی کہ اتحاد اس وقت آتا ہے جب کہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا راز جان گئے ہوں۔ صحابہ کرام بلا شبہ اتحاد کی غیر معمولی مثال ہیں۔ مگر ان کا اتحاد اختلاف کے باوجود متحد ہونے کی زمین ہی پر قائم ہوتا تھا۔ میں نے کہا کہ حضرت عمرؓ نے خلیفۂ اول ابو بکر صدیق کا ایک فرمان بر سر عام پھاڑ کر پھینک دیا۔ مگر ہاں کوئی کہرام نہیں مچا۔ آج اگر کوئی شخص ندوہ میں کھڑا ہو کر مولانا علی میاں کی ایک کتاب پھاڑ کر پھینک دے تو وہاں ایک ہنگامہ کھڑا ہو جائے گا۔ حضرت عمر تقریر کر رہے تھے کہ ایک عام آدمی نے کھڑے ہو کر کہا کہ ہم نہ تمہاری بات سنیں گے اور نہ تمہاری اطاعت کریں گے مگر اس سے کوئی برہمی پیدا نہیں ہوئی۔ آج اگر کوئی شخص ایک اسلامی ادارہ میں ایسا کرے تو وہ وہاں سے نکال دیا جائے گا۔ اس تقابل سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کے اندر اتحاد کی استعداد تھی، آج کے مسلمانوں میں اس کی استعداد نہیں۔ ایسی حالت میں پہلا کام ذہنی استعداد پیدا کرنا ہے نہ کہ کوئی جذباتی اشتو کھڑا کرکے بھیڑ جمع کرنا۔ بھیڑ اور اتحاد کے فرق کو نہ جاننے والے ہی بھیڑ پر خوش ہو سکتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page