آغازِ کلام
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے ایک موضوع پر کچھ معلومات جمع کی تھیں اور اس کے کچھ ابواب تیار کئے تھے۔ تا ہم مجھے احساس تھا کہ کتاب ابھی مکمل نہیں ہے۔ خواہش تھی کہ مزید معلومات جمع کر کے اس کو مکمل کر لوں، اس کے بعد اس کو شائع کروں۔ اس کتاب کا نام میں نے اسلام دورِ جدید کا خالق تجویز کیا تھا۔ مگر دوسری مصروفیات کی وجہ سے اس کی تکمیل کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ آخر کار میں نے طے کیا کہ وہ جس حال میں ہے اسی حال میں اسے شائع کر دوں۔ چنانچہ چھوٹے چھوٹے تقریباً ۲۰ ابواب مرتب کر کے کاتب کو برائے کتابت دے دئے۔ کارڈینل نیومین (Cardinal Newman) کا قول ہے کہ آدمی کوئی کام نہیں کر سکتا، اگر وہ اس انتظار میں رہے کہ وہ اتنا اچھا کام کرے کہ کوئی شخص اس میں کوئی غلطی نہ پاسکے: A man could do nothing, if he waited until he would do it so well that no one could find fault with what he has done. ۴ مارچ ۱۹۸۹ مسٹر آرن شرما ملاقات کے لئے آئے۔ وہ نئی دہلی کے ایک انگلش جرنلسٹ ہیں۔ نسلی اعتبار سے وہ برہمن ہیں۔ میرے سوالات کے جواب میں انھوں نے ہندو مذہب میں برہمن کی مختلف قسمیں اور ان کی سماجی حیثیت کی تفصیل بیان کی۔ اس گفتگو کے دوران انھوں نے کئی بار یہ الفاظ کہے : اس وقت میں پیورل ورن سسٹم پر بات کر رہا ہوں۔ یہ مت سمجھئے کہ یہ میری اپنی تھنکنگ ہے۔ اسی طرح ۲۸ فروری کو میں دین دیال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں گیا تھا۔ وہاں رشتی یعنی اشو پر جلسہ تھا۔ سیتا رام گوکل نے لمبی تقریر کی۔ وہ آر ایس ایس کے آدمی ہیں۔ ان کی پوری تقریر اسلام کے خلاف تھی۔ تاہم ہندو پیشواؤں کا ذکر کرتے ہوئے ایک بار ان کی زبان سے یہ فقرہ نکلا: محمد صاحب کی شخصیت دوسرے مذہبی پیشواؤں کی طرح ، انتھالو جیکل فیگر نہیں ہے، وہ پوری طرح ایک ہسٹاریکل فیگر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہمارے پڑوسی مسٹر پرمود بترا ایکسٹرامائن کا سیول دیکھنے کے لئے بلاتے رہتے ہیں۔ جنوری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader