آغازِ کلام
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۹۸۹ کے ایک اتوار کو میں ان کے یہاں گیا۔ ٹی وی پر را مائن کی ایک قسط شروع سے آخر تک دیکھی۔ اس میں عجیب و غریب مناظر تھے۔ مثلاً ایک موقع پر کرشن کوان کے دشمن تلوارلے کر مارتے ہیں۔ تلوار ان کے جسم کو کاٹ کر اس پار سے اس پار چلی جاتی ہے۔ اس کے باوجود وہ نہیں مرتے۔ اس طرح کے مناظر سامنے آتے تو مسٹر تبرام مسکرا کر کہتے: یہ کوئی ہسٹری نہیں، یہ مائتھالوجی ہے۔ ہندوؤں کے پڑھے لکھے طبقے کے بارے میں میرا تجربہ ہے کہ وہ اپنے مذہب کے بارے میں معذرت خواہ (Apologetic) رہتے ہیں۔ یہ دراصل مسلم نفرت ہے جو ان کو اپنے مذہب سے وابستہ کئے ہوئے ہے۔ اگر مسلمان یک طرفہ صبر کے ذریعہ مسلم نفرت کے اسباب ختم کر دیں تو اچانک ہندو مذہب کی عمارت خود ان کے درمیان گر پڑے گی۔ ۵ مارچ ۱۹۸۹ رابطہ العالم الاسلامی (سعودی عرب) کی طرف سے ایک ہفتہ وار اخبار "اخبار العالم الاسلامی" کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ ۲۱ فروری ۱۹۸۹ میں روسی مسلمانوں کے بارہ میں ایک مفصل رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بلادِ مسلمین پر روسی استعمار کا آغاز ۵۴۰ سال پہلے ہوا جب کہ ایفان سوم (IVAN III) نے ۱۵۵۲ میں قازان کی مسلم حکومت ختم کر دی۔ اس کے بعد ۱۹۱۷ میں وہاں اشتراکی انقلاب آیا۔ اس پوری مدت میں روس کے علاقہ میں بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ ہر قسم کا ظلم کیا جاتا رہا ہے اور ان کی اسلامی حیثیت اور شناخت کو مٹانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اس کے باوجود روسی علاقہ کے مسلمان ابھی تک ۹۵ فیصد سے زیادہ اپنے دین اور اپنے عقیدہ پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہیں (۹۵ - ۹۹ فی المائة من المسلمين السوفيت ما زالوا متمسكين باسلامهم وعقيدتهم ، صفحہ ۸-۹) ہندوستان کی مذہبی قیادت آجکل سب سے زیادہ جس موضوع پر تقریریں کر رہی ہے وہ یہی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں سے ان کی اسلامی شناخت مٹائی جارہی ہے، اور اگلی نسلوں کے مسلمان بحیثیت مسلمان باقی نہیں رہیں گے۔ ان لوگوں کو مذکورہ واقعہ سے نصیحت لینا چاہئے۔ جو واقعہ روسی جبر کے تحت نہیں ہوا وہ ہندوستانی جمہوریت میں کیسے ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader