Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

بعد کے مسلم علماء نے یہ مسئلہ بنا لیا ہے کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن کرے وہ لازماً قتل کیا جائے۔ اس مسئلے کے حق میں کوئی صریح نص قرآن وحدیث میں موجود نہیں ہے۔ یہ مسئلہ تمام تر قیاسی اور استنباطی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں عرب کے بے شمار لوگوں نے آپ پر طعن کیا۔ مگر آپ نے انھیں قتل نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ ایسا کرتے تو اسلام کی تاریخ ہی نہ بنتی۔ کیوں کہ یہی لوگ تھے جو بعد کو مومن ہو کر اسلام کی طاقت کا ذریعہ بنے۔ ابن قیم نے اپنی کتاب زاد المعاد (۶۱/۵) میں اس مسئلے پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قدیم عرب میں ایسے لوگ تھے جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت پر قتدح کیا۔ مگر آپ نے انھیں قتل نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو اس کا حق حاصل تھا۔ آپ کو آزادی تھی کہ خواہ ایسے شخص کو سزا دیں یا اسے چھوڑ دیں۔ مگر آپ کی امت آپ کے حق کی وصولی کو ترک نہیں کر سکتی رفضالك ان الحق له فلله ان يستوفيه وله ان يتركه۔ وليس لامتـه تـرك استيفاء حقه صلى الله عليه وسلم) ابن قیم کی یہ توجیہ نہایت مکروہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس قسم توجیہہ کو شریعت میں معتبر مان لیا جائے تو شریعت کا سارا نظام بگڑ کر رہ جائے گا۔ ۷ مارچ ۱۹۸۹ حبیب بھائی (حیدر آباد) آج ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے اپنے کاروبار کو اب کافی بڑھا لیا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو ذہنی سکون حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ بالکل نہیں۔ میں نے کہا کہ جہاں تک میرا تعلق ہے میں ذہنی سکون کو کوئی آئیڈیل چیز نہیں سمجھتا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ تمام بڑے بڑے کام کرنے والے وہ لوگ تھے جو ذہنی سکون سے محروم تھے۔ ذہنی سکون میرے نزدیک اس دنیا میں ممکن نہیں۔ مزید یہ کہ تاریخ بتاتی ہے کہ انھیں لوگوں نے تمام بڑے بڑے کام کے لئے جو ذہنی بے اطمینانی کا شکار ہوئے۔ پرسکون ذہن نے کبھی اس دنیا میں کوئی بڑا کام نہیں کیا ہے۔ منکن (H.L. Mencken) ایک امریکی جرنلسٹ تھا۔ وہ ۱۸۸۰ء میں بالٹی مور میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page