Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

پیدا ہوا، اور وہیں ۱۹۵۶ء میں وفات پائی۔ ممکن نے اسی بات کو ان لفظوں میں کہا کہ معلوم انسانی تاریخ میں کبھی کوئی مسرور فلسفی پیدا نہیں ہوا: There is no record in human history of a happy philosopher. ۸ مارچ ۱۹۸۹ء عبدالقادر در مغربی مصر کے ایک مشہور عالم اور صاحب قلم تھے۔ ۱۹۰۷ء میں انھوں نے ایک عربی مقالہ شائع کیا جس کا عنوان تھا: مصر و السیاستہ۔ اسی طرح انھوں نے ایک اور مقالہ مصر والاقطار العربیہ" کے نام سے شائع کیا۔ ان مقالوں میں انھوں نے کہا تھا کہ عالم اسلام اور عالم عرب کی قیادت و سیاحت کی ذمہ داری مصر پر عائد ہوتی ہے، کیوں کہ وہ مادی اور معنوی دونوں قسم کی دولت سے مالامال ہے۔ مصر عالم عرب کے وسط میں واقع ہے۔ اس کا ایک شاندار ماضی ہے۔ اس بنا پر اسلام کی نشأۂ ثانیہ کی ذمہ داری اور قیادت اسی کو کرنا چاہئے۔ اس میں اگر لفظ "مصر" کو حذف کر دیجئے تو موجودہ زمانہ کے تمام مسلم رہنما اسی قسم کی باتیں کہتے رہے ہیں۔ وہ مسلمانوں کی نئی نسلوں کو ان کا شاندار ماضی یاد دلا کر یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ اٹھیں اور دوبارہ عالمی قیادت کا کام سنبھالیں۔ یہ بات میرے نزدیک احمقانہ حد تک لغو ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے بہادر شاہ ظفر کی اولاد کو یا سلطان عبدالحمید ثانی کی بقایا نسل کو مخاطب کرکے کہا جائے کہ تم لوگ اٹھو اور ایشیا اور افریقہ میں اپنی کھوئی خاندان سلطنت کو دوبارہ بحال کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ مسلم نسلیں مسلمانوں کی زوال یافتہ نسلیں ہیں۔ ان کے اوپر اسلام کی عمارت کھڑی کرنے کا خواب دیکھنا دیمک زدہ لکڑی کے اوپر کثیر منزلہ عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ موجودہ زمانہ میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ دوسری قوموں سے نفرت اور کش مکش کی فضا ختم کی جائے اور ان کے درمیان وسیع پیمانہ پر اسلام کی اشاعت کی جائے۔ اب دوسری قوموں ہی سے وہ مسلم امت تیار ہو سکتی ہے جو دوبارہ اسلام کی تاریخ بنائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page