آغازِ کلام
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
سکھوں کے ایک بابا ساون سنگھ تھے۔ ان کے جانشین سنت کرپال سنگھ ہوئے۔ اب اس کے موجودہ جانشیں درشن سنگھ ہیں۔ بابا درشن سنگھ کی ایک کتاب ۴۷ صفحات پر شائع ہوئی ہے ۔ اس کا نام ہے"ایک آنسو اور ایک ستارہ" (A Tear and a Star) یہ انگریزی کتاب "خاطر" کے انداز میں ہے۔ اس کے ہر صفحہ پر بابا جی کے خود اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا کوئی مقولہ درج ہے۔ تمام اقوال کسی نہ کسی اعتبار سے امن اور محبت کے بارے میں ہے۔ مثلاً صفحہ ۲ پر یہ فقرہ درج ہے __ محبت کا صرف آغاز ہے، اس کا کوئی خاتمہ نہیں: Love has only a beginning; it has no end. سکھ نوجوان پچھلے تقریبا ۵۰ سال سے پنجاب میں اور دوسرے علاقوں میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔ انھوں نے ہزاروں بے گناہوں کو ہلاک کیا ہے۔ مگر اس کے خلاف کوئی سکھ رہنا نہیں بولتا۔ البتہ امن اور محبت کی باتیں ہر ایک کرتا ہے۔ مگر صرف اس قسم کا کلام کسی شخص کو امن اور محبت کا پرچارک نہیں بناتا۔ کریڈٹ صرف اس شخص کو مل سکتا ہے جو امن کی بات کرنے کے ساتھ بے امنی کا عمل کرنے والوں کی مذمت بھی کرے۔ ٹھیک یہی حال مسلم رہنماؤں کا بھی ہے۔ مسلم رہنما اپنے بیان اور تقریروں میں امن اور محبت اور انسانیت کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کی اپنی قوم کے لوگ (مسلمان) جب بے امنی کا فعل کرتے ہیں تو وہ ان کی مذمت نہیں کرتے۔ غیر قوم کے ظلم کی مذمت کرنے کے لئے ہر شخص بہادر ہے ، مگر اپنی قوم کے ظلم کی مذمت کرنے کے لئے کوئی شخص بہادر نہیں۔ ۱۰ مارچ ۱۹۸۹ محمد حسین ہیکل مصر کے مشہور عالم اور ادیب تھے۔ انھوں نے سیرت پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام "حیاۃ محمد" ہے۔ انھوں نے کتاب کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ فرانسیسی زبان میں انھوں نے وہ کتابیں پڑھیں جو یورپی مورخوں نے سیرت کے موضوع پر لکھی ہیں۔ انھوں نے دیکھا کہ ان کتابوں میں پیغمبر اسلام کی تصویر کو بگاڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ اس قسم کی چیزوں کو پڑھ کر ان کے اندر سخت ردعمل پیدا ہوا۔ اور انھوں نے مذکورہ کتاب لکھ ڈالی۔ چنانچہ اس کتاب کا تقریبا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader