Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

نصف حصہ مستشرقین کے جوابات پر مشتمل ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے سیرت کے موضوع پر کتابیں لکھی ہیں ان سب کا حال کم وبیش یہی ہے۔ میرے علم کے مطابق کوئی ایک بھی مسلمان نہیں جس کا یہ حال ہو کہ اس کو یہ احساس بے تاب کرے کہ لوگ گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ وہ انہیں سچائی کا راستہ دکھانے کے لئے تڑپ اٹھے اور اس تڑپ کے تحت ہادی برحق کی زندگی کے بارے میں ایک کتاب تیار کرے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی لکھی ہوئی تمام کتابیں دفاع سیرت ہیں نہ کہ حقیقی معنوں میں دعوت سیرت۔ ہزاروں کتابوں کے ہجوم میں کوئی ایک بھی ایسی کتاب نہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو سادہ اور فطری انداز میں بیان کیا گیا ہو۔ اور وہ عام انسانوں کو مطالعہ سیرت کے لئے دی جاسکے۔ ۱۱ مارچ ۱۹۸۹ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے جب میری کوئی بات بیان کی جائے تو اس کو اللہ کی کتاب پر جانچ کر دیکھو۔ اگر وہ اس کے مطابق ہو تو اس کو لے لو، ورنہ اسے رد کر دو ( اذا روی لكم عنی حدیث فاعرضوه علی کتاب الله تعالیٰ فان وافقه فاقبلوه والا فتردوه) یہ مطلب نہیں کہ جو حدیث بظاہر قرآن سے متعارض دکھائی دے اس کو رد کر دیا جائے۔ اس سے مراد ظاہری تعارض نہیں بلکہ معنوی تعارض ہے۔ ہر معاملہ کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ قرآن وحدیث میں کبھی ایک پہلو سے بات کہی جاتی ہے اور کبھی دوسرے پہلو سے۔ اس بنا پر بظاہر کلام میں فرق ہو جاتا ہے۔ لیکن فرق یا اختلاف کا فیصلہ ظاہری بنیاد پر نہیں کیا جائے گا بلکہ معنوی اور حقیقی بنیاد پر کیا جائے گا۔ ۱۲ مارچ ۱۹۸۹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے متعلق ایک عربی کتاب پڑھ رہا تھا۔ ان کے حیرت انگیز حالات پڑھتے ہوئے بے اختیار آنکھوں سے آنسو اہل پڑے۔ میں نے کہا: اصحاب رسول بلاشبہ دنیا کے بہترین لوگ تھے۔ مکہ میں ایک طرف صبر کی ضرورت تھی تو انھوں نے آخری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page