Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

حد تک صبر کیا۔ مدینہ میں قربانی کی ضرورت پیش آئی تو انھوں نے آخری حد تک قربانی دی۔ میرے اندر صبر کی طاقت ہے اور نہ قربانی کی طاقت۔ البتہ میں ان پاک نفوس کی عظمت کا اعتراف کرتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے اگر یہ غیر معمولی کردار ادا نہ کیا ہوتا تو دنیا سے کبھی شرک کا دور ختم نہ ہوتا، اور انسان ہمیشہ کے لیے گمراہی کے اندھیرے میں بھٹکتا رہتا۔ جس طرح وہ ان سے پہلے اندھیروں میں بھٹک رہا تھا۔ یا اللہ، میرے پاس کوئی عمل نہیں۔ مجھے صرف اس لیے بخش دیجیے کہ میں نے آپ کا اعتراف کیا اور آپ کے ان بندوں کا اعتراف کیا جو بلاشبہ آپ کے محبوب بندے ہیں۔ ۱۳ مارچ ۱۹۸۹ ٹائم میگزین دنیا کا سب سے زیادہ کثیر الاشاعت پرچہ ہے۔ اس کے 9 انٹرنیشنل ایڈیشن مختلف مقامات سے نکلتے ہیں۔ اس کی ہر اشاعت کے شروع میں آدھے صفحہ کا ایک نوٹ پبلشر کے تحت ہوتا ہے۔ اس کی اشاعت ۱۳ مارچ ۱۹۸۹ میں جو نوٹ From the publisher ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ ہم ہمیشہ اپنے قارئین کو اپنے ذہن میں رکھتے ہیں۔ اور اشاعت کے لیے انھیں کہانیوں کا انتخاب کرتے ہیں جس سے انھیں دلچسپی ہو۔ We keep our readers in mind and select the stories that will interest them. یہ صرف ٹائم کی بات نہیں۔ یہی تمام صحافیوں اور قائدین کا اصول ہے۔ وہ عوام کے مزاج کو دیکھ کر لکھتے اور بولتے ہیں۔ اس سے انھیں ذاتی فائدہ یقیناً حاصل ہو جاتا ہے مگر قوم کی تعمیر کا کام نہیں ہوتا۔ البتہ میں ہمارا اصول اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہم لوگوں کے انٹرسٹ یا ان کے رحجان کو نہیں دیکھتے۔ بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ صحیح بات کیا ہے۔ ہم وہی بات لکھتے ہیں جو قرآن و حدیث کے مطابق صحیح ہو خواہ وہ کسی کے موافق پڑے یا اس کے خلاف۔ اس فرق کا مطلب ایک لفظ میں یہ ہے کہ ٹائم ایک تجارت ہے، اور الرسالہ اس کے مقابلہ میں اعلانِ حق۔ اس دنیا میں دو چیزوں کے فرق کو جاننا آدھا علم ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page