Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

الشیخ یوسف ہاشم الرفاعی ہیں۔ وہ اس سے پہلے کویت میں وزیر رہ چکے ہیں۔ صدر موصوف نے اپنی ایک رپورٹ میں ہندوستان کی مسلم اقلیت کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد ۱۰۰ ملین سے زیادہ ہے۔ وہ متعصب ہندوؤں کے نرغہ میں ہیں۔ ہندو یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان ان کے جیسے نام رکھیں ، ان کا لباس پہنیں ، اپنی لڑکیوں کی شادی ہندو لڑکوں سے کریں ، ورنہ انہیں پاکستان بھاگنے پر مجبور کر دیا جائے۔ ہندوؤں نے مرکزی حکومت سے یہ حکم حاصل کر لیا کہ عظیم تاریخی مسجد جس کا نام بابری مسجد ہے، اس کو بند کر دیں اور اس پر قبضہ کر لیں۔ کیوں کہ ان کے دعویٰ کے مطابق وہ ایک قدیم مندر کو توڑ کر اس کی جگہ بنائی گئی ہے : وتحدث عن مسلمی الھند فوضح ان مسلمی الھند الذین عددهم یزید عن مأة ملیون مسلم يتعرضون لحملة شرسة من الهندوس المتعصبين تهدف الى طردهم الى باكستان اذا لم يغيروا اسماءهم ولباسهم واذا لم يقبلوا بتزويج بناتهم بابناء غير المسلمين. وقد قام الهندوس باستصدار امر من الحكومة المركزية باغلاق ومصادرة مسجد اثري كبير ليسمى الجامع البابري بدعوى انه بنى على انقاض معبد هندوسي قديم. اخبار العالم الاسلامی ، مكة المكرمة ، ۲۸ رجب ۱۴۰۹ھ / ۶ مارچ ۱۹۸۹ ، صفحه ۲ ہندوستانی مسلمانوں کی یہ تصویر سراسر غلط ہے۔ اس قسم کی خلاف واقعہ باتیں مستقل طور پر عرب پرچوں میں چھپتی رہتی ہیں۔ اس نے عالم عرب کے لوگوں کا ذہن ہندوستان کے بارے میں بالکل خراب کر دیا ہے۔ (یہی رپورٹ الدعوة (ریاض) ۲۰ اپریل ۱۹۸۹ میں بھی شائع ہوئی ہے) مولانا قاضی ثناء اللہ حنفی (۱۱۴۴ھ میں پانی پت (ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page