آغازِ کلام
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
تعلیم کے بعد وہ دہلی آگئے اور شاہ ولی اللہ صاحب سے حدیث کا علم حاصل کیا۔ وہ مرزا جانجاناں مظہر سے بیعت تھے۔ آخر عمر میں وہ اپنے وطن پانی پت میں مقیم ہو گئے۔ یہیں ۱۲۲۵ میں وفات پائی۔ قاضی ثناء اللہ صاحب نے اپنی ساری عمر دینی مطالعہ میں گزار دی۔ انھوں نے تفسیر اور فقہ وغیرہ موضوعات پر ۳۰ سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں۔ انھوں نے قرآن کی مکمل تفسیر عربی زبان میں لکھی اور اس کا نام اپنے شیخ کے نام پر تفسیر المظہری رکھا۔ یہ کتاب ۱۰ جلدوں میں ندوتہ المصنفین (دہلی) سے شائع ہوئی ہے۔ اس کی پہلی جلد ۱۲۹۳ میں چھپی تھی اور دسویں جلد ۱۳۷۹ میں چھپی۔ اس تفسیر کا مکمل سیٹ میرے پاس موجود ہے۔ میں اس سے برابر استفادہ کرتا رہتا ہوں۔ مجھے یہ تفسیر بہت پسند ہے۔ میرا بار بار کا تجربہ ہے کہ جو بات دوسری تفسیروں میں نہیں ملتی وہ اکثر ان کی تفسیر میں مل جاتی ہے۔ ندوتہ المصنفین نے اس کو ہاتھ کی کتابت سے چھپوایا ہے۔ اس بنا پر وہ طباعتی حسن سے خالی ہے۔ میری تمنا ہے کہ کوئی لائق آدمی محنت کر کے اس کو ایڈٹ کرے اور دوبارہ ٹائپ میں اس کو جدید معیار پر چھپوایا جائے۔ ۱۶ مارچ ۱۹۸۹ ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس دنیا کا نظام "باوجود" کے اصول پر قائم ہے۔ یہاں برے اخلاق کا جواب اچھے اخلاق سے دینے کا نام اخلاق ہے۔ یہاں اشتعال انگیزی کے باوجود اشتعال نہ ہونے کا نام صبر ہے۔ اس دنیا میں آدمی کو رکاوٹوں کے باوجود کامیابی کا راستہ نکالنا پڑتا ہے۔ یہاں اتحاد اس وقت قائم ہوتا ہے جب کہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا ارادہ کیے ہوں۔ ۱۷ مارچ ۱۹۸۹ مولانا عبداللہ طارق (نظام الدین) ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے ایک شعر سنایا جو مجھ کو بہت پسند آیا۔ وہ شعر یہ تھا: تفاوت است میان شنیدن من و تو تو خلق باب ومنم فتح باب می شنوم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader