آغازِ کلام
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
آتی ہے، اس کو تم دروازہ بند کرنے کی آواز سمجھ رہے ہو، اور میں اس کو دروازہ کھولنے کی آواز سمجھتا ہوں۔ زندگی کے معاملات میں اصل اہمیت اسی زاویہ نگاہ کی ہے۔ ایک شخص حالات کو منفی نظر سے دیکھتا ہے۔ اس کو نظر آتا ہے کہ حالات نے ہمارے لیے سفر کے تمام راستے بند کر دیئے ہیں۔ دوسرا شخص حالات کو مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔ اس کو نظر آتا ہے کہ حالات نے ہمارے لیے سفر کے نئے وسیع تر مواقع کھول دئیے ہیں۔ ایک ہی آواز ہے۔ مگر ایک شخص اس کو دروازہ کھلنے کی آواز سمجھتا ہے۔ اور دوسرا شخص یہ سمجھتا ہے کہ دروازہ بند ہو گیا۔ ۱۸ مارچ ۱۹۸۹ میری زندگی کے تجربوں میں سے ایک اندوہناک تجربہ یہ ہے کہ آدمی اسی وقت تک اچھا رہتا ہے جب تک وہ اچھا رہنے کے لئے مجبور ہو۔ جیسے ہی وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ اپنے اختیار سے اچھا بنے تو ففوراً وہ دوسرا آدمی بن جاتا ہے۔ مجبورانہ طور پر نیک بننے والے بے شمار ہیں، مگر اختیاراتہ طور پر نیک بننے والا کوئی نہیں۔ ۱۹ مارچ ۱۹۸۹ مہتاب علی صاحب (پیدائش ۱۹۵۲) ملاقات کے لئے آئے۔ وہ نیند روڈ ضلع بجنور کے رہنے والے ہیں۔ تبلیغی جماعت کے تحت وہ پنجاب گئے تھے۔ وہاں کے بہت سے واقعات انہوں نے بتائے۔ مہتاب علی صاحب یکم مارچ ۱۹۸۹ء کو پانی پت میں تھے۔ وہاں وہ گڑ منڈی کی مسجد میں اپنی جماعت کے ساتھ ٹھہرے۔ یہ مسجد آج آباد اور پر رونق مسجد ہے۔ اس میں پانی ، بجلی ، پنکھا وغیرہ ہر چیز کا انتظام ہے۔ پنج وقت نماز ہوتی ہے۔ مگر دو سال پہلے وہ مکمل طور پر ایک ہندو کے قبضہ میں تھی جو اس کو اپنا رہائشی مکان بنائے ہوئے تھا۔ یہاں ایک ہندو لالہ ہیں جن کی گڑ منڈی میں تھوک کی بڑی دکان ہے۔ وہ گڑ ، چینی ، دال وغیرہ سپلائی کرتے ہیں۔ ان کے یہاں تقریبأ دس سلمان پلیدار (قلی) کام کرتے ہیں۔ یہ مسلمان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader