Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

بعد کو یہاں آکر آباد ہوئے ہیں۔ کیوں کہ ۱۹۴۷ میں یہاں کے تمام مسلمان یا تو پاکستان بھاگ گئے۔ یا قتل کر دیئے گئے تھے۔ مسلمان پلہ دار جو یوپی وغیرہ سے آکر یہاں کام کرتے ہیں انھوں نے ہندو لالہ سے کہا کہ ہم کو نماز کی بہت پریشانی ہوتی ہے۔ آپ کے گرام میں ہم مشکل سے نماز پڑھتے ہیں۔ یہاں ایک بنی بنائی مسجد موجود ہے جس پر ایک ہندو کا قبضہ ہے۔ اگر آپ اس کو خالی کرا دیں تو ہمارا کام بن جائے۔ ہندو لالہ نے اس ہندو کو بلایا جو ۱۹۴۷ سے اس مسجد میں رہ رہا تھا۔ لالہ جی نے کہاکہ مسلمان لوگ چاہتے ہیں کہ تم مسجد کو خالی کر دو تاکہ وہ لوگ وہاں نماز پڑھ سکیں۔ مذکورہ ہندو اس شرط پر خالی کرنے کے لئے راضی ہوا کہ اسے اتنی رقم دی جائے کہ وہ اپنے رہنے کے لئے دوسرا انتظام کر سکے۔ اس مقصد کے لئے پانچ ہزار روپیہ کا مطالبہ کیا۔ لالہ جی کے کہنے سننے سے آخر کار وہ چار ہزار روپیہ پر راضی ہو گیا۔ ہندو لالہ نے اپنے پاس سے چار ہزار روپیہ دے کر مسجد کو خالی کرایا اور اس کو مسلمانوں کے حوالہ کر دیا۔ اب یہ مسجد مکمل طور پر مسلمانوں کے قبضہ میں ہے۔ وہاں باقاعدہ پانچ وقتہ نماز ہوتی ہے۔ ایک امام بھی ہیں جو اپنے حجرہ میں رہتے ہیں۔ مسجد کا تصور یہ ہے کہ وہ خدا کی عبادت کی جگہ ہے۔ اس بن پر ہر آدمی نیک کام سمجھ کر اس میں مدد دینے کے لئے راضی ہو جاتا ہے۔ بشرط صرف یہ ہے کہ اس کے لئے جھگڑا نہ کیا جائے بلکہ ٹھنڈے طریقے سے لوگوں سے مدد کرنے کے لئے کہا جائے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جو لوگ مسجد کا مسئلہ لے کر اٹھے ہیں انھوں نے اپنی ماضی کی روش سے اپنی اچھی تصویر نہ بنائی ہو۔ اگر انہوں نے اپنی تصویر بگاڑ رکھی ہو تب بھی ان کی اپیل غیر مؤثر ہو جائے گی۔ ۲۰ مارچ ۱۹۸۹ ایک صاحب ملاقات کے لئے آئے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک گورنمنٹ کالج میں استاذ ہوں۔ پھر کہا کہ ریٹائرمنٹ کی عمر ۵۸ سال ہے۔ اس کے مطابق میری ملازمت کی مدت پوری ہو چکی ہے۔ تاہم کالج والوں نے ایک سال کی توسیع دے دی ہے۔ اب میں ایکسٹنشن پر چل رہا ہوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page