Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ ایک اعتبار سے میرا حال بھی یہی ہے۔ میری عمر اب ۴۴ سال ہو چکی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ۶۳ سال میں ہوئی تھی۔ اس اعتبار سے میں سمجھتا ہوں کہ انسان کی اصل طبعی عمر ۶۳ سال ہے۔ اگر وہ مزید زندہ رہتا ہے تو وہ گویا خدا کی طرف سے اس کی توسیع ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب میری مدت عمر پوری ہو چکی ہے۔ اس کے بعد اگر میں زندہ ہوں تو گویا کہ میں توسیع پر چل رہا ہوں۔ انسان کو چاہئے کہ وہ ہر عمر میں موت کو یاد رکھے۔ مگر جس آدمی کی عمر ۶۳ سال سے اوپر ہو جائے اس کو صبح و شام موت کا منتظر رہنا چاہئے۔ کیوں کہ ۶۳ سال کے بعد وہ توسیع پر ہو جاتا ہے۔ کچھ نہیں معلوم کہ کس لمحہ اس کی توسیع کی مدت ختم ہو جائے اور موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرنے کے لئے آپہنچے۔ ۲۱ مارچ ۱۹۸۹ء ایک سودانی مسلمان طلال عثمان ہاشم (عمر ۴۰ سال) ملاقات کے لئے آئے۔ وہ ام درمان (ٹیلیفون 45784) میں رہتے ہیں۔ اور تبلیغی جماعت کے تحت دہلی آئے ہیں۔ ان کے ساتھ تبلیغی جماعت کے کچھ اور لوگ بھی تھے۔ طلال عثمان ہاشم نے بتایا کہ تبلیغ کے کچھ لوگ اردن گئے۔ وہاں انھوں نے کچھ فلسطینی نوجوانوں میں تبلیغ کی بات کی۔ نوجوانوں نے کہا کہ تبلیغ کا حکم تو مکہ میں تھا۔ ہجرت کے بعد جب مدنی دور آیا تو قرآن میں جہاد کی آیتیں اتریں اور صبر اور تبلیغ کی آیتیں منسوخ ہوگئیں۔ اس لئے اب تو ہمیں صرف جہاد کرنا ہے۔ تبلیغ کے صاحب نے کہا کہ جہاد سے پہلے دعوت اسی طرح ضروری ہے جس طرح نماز سے پہلے وضو ضروری ہے (الجہاد بغیر الدعوة مثل الصلاة بغیر الوضوء) فلسطینی نوجوانوں نے کہا کہ اگر آپ کی بات صحیح ہے تو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے یہاں جاکر تبلیغ کرتے تھے، ہم کو اور آپ کو یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس جانا چاہئے اور ان کے اوپر تبلیغ کرنا چاہئے (فعلینا ان نذهب و ندعوا اليهود الى الاسلام) تبلیغ کے صاحب نے جواب دیا کہ موجودہ حالت میں اگر آپ یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page