Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

تبلیغ اسلام کے لئے جائیں تو وہ کہیں گے کہ تم ہم کو کس اسلام کی طرف بلاتے ہو۔ وہ اسلام جو کتابوں میں ہے یا وہ اسلام جو مسلمانوں کی زندگیوں میں ہے۔ کیوں کہ کتابی اسلام اور عملی اسلام میں بہت زیادہ فرق ہو چکا ہے۔ تبلیغ کے صاحب نے کہا کہ اس لئے ہمارا اور آپ کا فرض ہے کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کریں اور جب یہ کام ہو جائے، اس کے بعد غیر مسلموں میں تبلیغ کے لئے جائیں۔ تبلیغ والے عام طور پر غیر مسلموں میں تبلیغ نہ کرنے کا یہی جواب دیتے ہیں۔ مگر بہت سے وجوہ کی بنا پر یہ جواب بالکل غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم کو اصلاح مسلمین اور دعوت عام دونوں کام بیک وقت کرنا ہے۔ ان میں سے کوئی کام بھی کسی حال میں ساقط ہونے والا نہیں۔ تبلیغ والوں کے لئے زیادہ صحیح بات یہ ہوگی کہ وہ کہیں کہ ہم مسلمانوں میں اصلاح کا کام کرتے ہیں، دوسرے لوگ اٹھیں اور وہ غیر مسلموں میں تبلیغ کا کام کریں۔ یہی ان کی طرف سے زیادہ صحیح اور محفوظ جواب ہے۔ آدمی اگر ایک کام نہ کر رہا ہو تو اس کو کم سے کم یہ کرنا چاہئے کہ وہ نہ کرنے کا اعتراف کرے۔ ۲۲ مارچ ۱۹۸۹ رحمان نیر صاحب (۵۰ سال) نے بتایا کہ وہ نظام الدین اولیا کی درگاہ پر گئے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ لوگ قبر پر سر رکھ کر اس کو سجدہ کر رہے ہیں۔ رحمان نیر صاحب نے کہا کہ یہ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ اسلام میں غیر اللہ کو سجدہ کرنا حرام ہے۔ ایک صاحب نے جواب دیا: ہم سجدہ نہیں کرتے، ہم تو ہونٹوں سے اور آنکھوں سے چوستے ہیں۔ میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ قبر کو سجدہ کرنے کی اتنی خوبصورت تاویل لوگوں کے پاس موجود ہوگی۔ ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ ہربرٹ ہوور (Herbert Hoover) نے سیاسی لیڈروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ انسانی تباہی کی قیمت پر اپنا سیاست کا کھیل کر رہے ہیں: They are playing politics at the expense of human misery. یہ تبصرہ سب سے زیادہ مسلم لیڈروں پر صادق آتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم لیڈر ایسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page