Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

سیاست چلا رہے ہیں جس میں ان کی قائدانہ شخصیت تو بن جائے مگر ملت تباہ و برباد ہو کر رہ جائے۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ : وَ اما السائل فلا تنهر (اور سائل کو نہ جھڑ کو) اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جو اپنے ظاہر کے اعتبار سے اس قابل ہو کہ اسے جھڑک دیا جائے جو اپنی ذاتی قیمت کے اعتبار سے کچھ پانے کا مستحق نہ ہو، وہ بھی اگر سائل بن کر تمہارے سامنے آجائے تو اس کو نہ جھڑک و اور نہ اسے ڈانٹ کر بھگاؤ۔ جو خدا بندوں کو یہ حکم دے، وہ خود یقیناً اس معاملہ میں اعلیٰ ترین مرتبہ پر ہوگا۔ بندہ کو چاہئے کہ اگر وہ اپنے رب کے سامنے عمل پیش نہ کر سکے تو کم از کم وہ اس کے سامنے سوال پیش کرے۔ اللہ کے سامنے جس طرح ایک عمل کی قیمت ہے، اسی طرح اس کے یہاں ایک سوال کی بھی قیمت ہے۔ جس شخص کے پاس حقیقی عمل ہو اور نہ حقیقی سوال، وہی وہ شخص ہے جو آخرت کے دن بربادی سے دوچار ہوگا۔ ۲۵ مارچ ۱۹۸۹ موجودہ دنیا میں لذت کا حصول ممکن نہیں۔ انسان ایک چیز کو ذریعہ لذت سمجھ لیتا ہے اور اس کی طرف دوڑتا ہے۔ مگر جب وہ چیز مل جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر حقیقی معنوں میں کوئی لذت نہ تھی۔ اس دنیا میں ہر لذت فریبِ لذت ہے۔ اس حقیقت کو جو شخص تجربہ سے پہلے جان لے وہ عارف ہے، اور جو شخص تجربہ کے بعد جانے وہ جاہل۔ ۲۶ مارچ ۱۹۸۹ رسول سے محبت اسلام میں مطلوب ہے۔ مگر محبت رسول کا رخ اطاعت رسول کی طرف ہونا چاہئے نہ کہ عشق رسول کی طرف۔ رسول اور پیروان رسول کے درمیان معشوق اور عاشق کا تعلق نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ رسول، اللہ کی طرف سے معیار ہے۔ ہماری ساری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ اپنے آپ کو اس معیار کے مطابق بنائیں۔ محبت در اصل اتباع و اطاعت ہی کا اگلا درجہ ہے، وہ عشق و عاشقی کا کوئی معاملہ نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page