Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

دین میں اس انحراف نے بڑی احمقانہ قسم کی خرابیاں پیدا کی ہیں۔ مثلاً پاکستان سے ۴۲۴ صفحات کی ایک کتاب "شحاب نامہ" چھپی ہے۔ اس کے مصنف قدرت اللہ شہاب صاحب ہیں۔ ۱۹۷۸ سے ۱۹۸۸ کے درمیان صرف ایک سال میں اس کے چھ ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ اس کا ایک حصہ مصنف کے سفر حج سے متعلق ہے۔ مصنف نے اپنے سفر مدینہ کے جو عاشقانہ تجربات لکھے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے: "جی چاہتا تھا کہ گنبد خضرا پر نگاہ ڈالنے سے پہلے ان گناہگار آنکھوں کو کسی قدر صاف کرلوں۔ اس مقصد کے لئے شاہراہ مدینہ کی خاک سے بہتر اور کیا چیز ہو سکتی تھی؟ میں نے اضطراراً جلتی ہوئی سڑک سے خاک کی ایک چٹکی اٹھائی اور اسے اپنی آنکھوں کا سرمہ بنالیا۔ مسجد نبوی تک پہنچتے پہنچتے میری آنکھیں سرخ ہو کر سوج گئیں۔ اور راستہ نظر آنا مشکل ہو گیا۔ قدم قدم پر راہگیروں سے ٹکر لگتی تھی۔ مجھے اندھا سمجھ کر ایک بھلے آدمی نے میری رہنمائی کی اور مجھے باب جبریل تک پہنچا دیا۔ باب جبریل پر عاشقان رسول کا ہجوم تھا۔ اندر جانے والوں اور باہر آنے والوں کا غیر منقطع تانتا بندھا ہوا تھا۔ ایک نورانی صورت بزرگ چٹائی پر بیٹھے لوگوں کے جوتے سنبھالنے میں مصروف تھے۔ میری آنکھوں میں اب تک دھند سی چھائی ہوئی تھی۔ اور بھیڑ کے ریلے میں پھنس کر مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ میں آگے بڑھ رہا ہوں یا پیچھے جارہا ہوں۔ ایک مقام پر میں لوگوں سے ٹکرا کر بری طرح لڑکھڑایا اور جوتوں کے ڈھیر پر اوندھے منہ گر پڑا۔ جوتوں کی رکھوالی کرنے والے صاحب نے سہارا دے کر مجھے اٹھایا اور اپنے پاس چٹائی پر بٹھالیا۔ وہ ٹوٹی پھوٹی اردو بولتے تھے۔ میری آنکھیں سوجی ہوئی اور سانس پھولی ہوئی تھی۔ اپنی صراحی سے پانی کا گلاس پلا کر انھوں نے ازراہ ہمدردی دریافت کیا کہ میری آنکھوں کو کیا مرض لاحق ہے۔ میں نے شاہراہ مدینہ کی خاک کی چٹکی والا واقعہ بے کم و کاست بیان کر دیا۔ اسے سن کر وہ بے اختیار رو پڑے۔ (صفحہ ۶۱۶) ۲۷ مارچ ۱۹۸۹ زندگی کی محرومیاں غیر مومن کے لئے صرف اس کی مایوسی میں اضافہ کرتی ہیں۔ لیکن اگر آدمی کے اندر مومنانہ شعور زندہ ہو تو اس کی محرومیاں اس کو اپنی عاجزانہ حیثیت کی یاد دلانے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page