آغازِ کلام
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
محرومیاں آدمی کے اندر بے حسی کے برف کو توڑتی ہیں۔ وہ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہاتی ہیں جو خدا کی رحمت کو سب سے زیادہ کھینچنے والا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو دنیا کی محرومی آخرت کی یافت ہے کیوں کہ وہ آدمی کو جنت کی طرف لے جانے والی ہے۔ یہ بلاشبہ جنت کی بہت ارزاں قیمت ہے کہ آدمی دنیا کی کچھ معمولی چیزوں کو کھو کر آخرت کی اعلیٰ چیزوں کو پالے۔ ۲۸ مارچ ۱۹۸۹ مارچ کے دوسرے ہفتہ میں کچھ لوگوں نے دہلی سے میرٹھ تک "پد یاترا" کیا۔ اس کے لیڈر سوامی اگنی دلیش تھے۔ شبانہ اعظمی بھی اس میں شریک ہوئیں۔ میرے پاس بار بار سوامی اگنی دلیش کا ٹیلیفون آیا کہ اس میں شرکت کریں۔ میں نے معذرت کر دی۔ ٹائمز آف انڈیا (۲۸ مارچ ۱۹۸۹) میں مسٹر راہل شر یالی (دابن) کا خط چھپا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس معاملہ کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ اگر چہ اس قسم کے مارچ سے مارچ کرنے والوں کو زبردست پبلسٹی حاصل ہوتی ہے، لیکن اس سے کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا: The bitter truth is that while these marches attract great publicity, they do not help in providing a solution to any problem. یہ بات مسلم لیڈروں کی سرگرمیوں پر مزید اضافہ کے ساتھ صادق آتی ہے۔ مسلم لیڈروں کا حال یہ ہے کہ وہ بار بار ایسے اشتعال انگیز اٹھاتے ہیں جن کے نام پر مسلمانوں کی بھیڑ جمع ہوتی ہو۔ ان وقتی بھیڑوں سے لیڈر کی اپنی شخصیت تو بن جاتی ہے، مگر مسلمانوں کے مسائل میں سے ایک مسئلہ بھی حل نہیں ہوتا۔ وہ ملک جس کو اب بنگلہ دیش کہا جاتا ہے۔ ۱۹۷۱ سے پہلے پاکستان کا حصہ تھا اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader