آغازِ کلام
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
مشرقی پاکستان" کہا جاتا تھا۔ اس وقت شیخ مجیب الرحمن مقبول ترین بنگالی لیڈر جن کا بہہرے۔ وہ اپنی پرجوش تقریروں میں بنگلہ کو سونار بنگلہ (سونے کا بنگلہ) کہا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک سونے کا ملک ہے۔ مگر پاکستانی حکمران ہماری دولت پاکستان اٹھا لے جاتے ہیں۔ ہم کنگال ہورہے ہیں جب کہ ہماری دولت سے کراچی میں سونے کی سڑکیں بن رہی ہیں۔ ان تقریروں نے پورے مشرقی بنگال میں آگ لگا دی۔ یہاں تک کہ پاکستان سے خونریز جنگ لڑ کر وہ الگ ہو گیا اور " بنگلہ دیش" کی صورت میں ایک آزاد ملک قائم ہوگیا۔ مگر آج بنگلہ دیش ہمیشہ سے زیادہ غریب ملک ہے۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کے تقریبا ۵ لاکھ شہری اپنا ملک چھوڑ کر امریکہ جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فروری ۱۹۸۹ میں امریکی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ۱۹۹۰ کے دوران ۱۶۸ ملکوں سے نقل وطن کرنے والے ۲۰ ہزار افراد کو امریکہ میں جگہ دی جائے گی۔ اس کے بعد ڈھاکا میں امریکی ویزا کے لئے درخواستوں کا ایک سیلاب امڈ پڑا ہے۔ پوسٹل ڈیپارٹمنٹ کے افسروں کا کہنا ہے کہ روزانہ تقریبا ۴۰ ہزار بنگالی واشنگٹن کے ایک ادارہ کے پتے پر ویزا کی درخواستیں بھیج رہے ہیں۔ ان میں عوام بھی ہیں اور خواص بھی۔ سلیٹ کے ۵۶ سالہ کسان رحیم علی نے کہا کہ اگر مجھے امریکہ جانے کا موقع مل گیا تو میں پیٹ بھر کھانا کھا سکوں گا۔ ایک ڈاکٹر جو سالانہ ۴۰ ڈالر فی کس آمدنی رکھنے والے ملک میں ایک ہزار ڈالر ماہانہ کماتا ہے وہ بھی نقل وطن کا خواہاں مند ہے۔ اس نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام اور تعلیمی اداروں میں انتشار کی وجہ سے وہ بنگلہ دیش چھوڑنا چاہتے ہیں۔ موجودہ حالات میں اس کے دو بیٹوں کا سخت تعلیمی نقصان ہورہا ہے۔ ایک انجینئر نے کہا کہ بنگلہ دیش کے مقابلہ میں امریکہ ایک جنت ہے (قومی آواز ۲۹ مارچ ۱۹۸۹) کتنا فرق ہے سیاسی بیان بازی میں اور حقیقی زندگی کی تعمیر میں۔ سیاسی تقریروں میں بنگلہ دیش سونار بنگلہ تھا، مگر حقیقت میں وہ صرف فقیر بنگلہ بن کر رہ گیا ہے۔ آرلینڈ اے باتستا (Orlando A. Battista) کا قول ہے کہ کوئی غلطی صرف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader