آغازِ کلام
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
اس وقت غلطی ہے جب کہ تم اس کی اصلاح کرنے سے انکار کر دو : غلطی ہر آدمی سے ہوتی ہے۔ اگر آدمی غلطی کو مانے اور اس کی اصلاح پر آمادہ ہو تو غلطی کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ مگر جو شخص غلطی کو نہ مانے اور اس کی اصلاح کرنے پر راضی نہ ہو، وہی وہ شخص ہے جس نے اپنی غلطی کو تباہی کے درجہ تک پہنچا دیا۔ ۳۱ مارچ ۱۹۸۹ کچھ تعلیم یافتہ مسلمانوں سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اسلام کے بارہ میں اچھی اچھی باتیں کیں ، مگر ان کے اندر مجھے اسلام کا درد محسوس نہیں ہوا۔ میں نے سوچا کہ قبول اسلام کے دو درجے ہیں۔ ایک وہ اسلام جو ذہنی پسندیگی کی سطح پر ہو۔ دوسرا وہ اسلام جو روح کی گہرائیوں میں اترا ہوا ہو۔ موجودہ زمانہ میں لوگ یا تو اسلام سے دور ہیں یا ذہنی پسندیدگی کی سطح پر انھوں نے اسلام کو اختیار کر رکھا ہے۔ روح میں سرایت کیا ہوا اسلام کہیں نظر نہیں آتا۔ اس دوسرے اسلام کو قرآن میں ” داخل القلب ایمان “ کہا گیا ہے اور یہی وہ اسلام ہے جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ یکم اپریل ۱۹۸۹ کانسٹی ٹیوشن کلب میں صوفیا کے سماجی رول کے موضوع پر ایک سیمنار تھا۔ منتظمین کی دعوت پر میں بھی شریک ہوا۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام کی تاریخ میں ایک رول ماڈل حسن بن علی کا ہے جو رضا کارانہ طور پر حق پر حق خلافت سے دستبردار ہو گئے ۔ دوسرا رول ماڈل حسین بن علی کا ہے جو خلافت کے لئے لڑے۔ میں نے کہا کہ اسلام کی بعد کی ہزار سالہ تاریخ میں امت کے نمائندہ افراد حسن کے رول ماڈل پر چلے ۔ انھوں نے حکمرانوں سے ٹکر اؤ کے بجائے حکومت و سیاست سے الگ رہ کر اپنے لئے تعمیری میدان میں کام تلاش کر لیا۔ صوفیا بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھے ۔ صوفیاء

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader