آغازِ کلام
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
نے حکمرانوں سے ٹکراؤ کو واؤنڈ کرتے ہوئے اصلاح کا کام کیا۔ میری تقریر میں چوں کہ حسین کے رول ماڈل کو غیر منزع قرار دیا گیا تھا، ایک شیعہ ڈاکٹر اس پر بگڑگئے۔ میں نے غور کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ حسن اور حسین دونوں ہی نواسۂ رسول ہیں۔ مگر شیعہ حضرات حسن کو بالکل نظر انداز کرتے ہیں، اور حسین کے کردار کو سب اللغہ آمیز حد تک نمایاں کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیعیت کا اصل عقیدہ یہ ہے کہ رسول کے بعد خلافت کا حق اہل بیت کو ہے۔ اسی پر شیعی مذہب کھڑا ہوا ہے۔ حسین کے رول ماڈل کو عظمت دینے سے ان کے مذہب کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ حسن کو نمایاں کریں تو ان کا مذہب بالکل منہدم ہو جائے گا۔ کیوں کہ حسینیت اگر دعوائے خلافت کا نام ہے تو حسنیت خلافت کے دعوے سے دستبرداری کا۔ ۱۲ اپریل ۱۹۸۹ مسٹر ایس ایم جوشی (۱۹۰۹ء-۱۹۸۹ء) کے انتقال پر ٹائمز آف انڈیا (۱۲ اپریل ۱۹۸۹ء) میں ان کے بارہ میں جو رپورٹ چھپی ہے اس کا عنوان ہے: A crusader against inequality (نابرابری کے خلاف لڑنے والا مجاہد) بتایا گیا ہے کہ وہ زندگی بھر سماجی عدم مساوات (Social inequality) کے خلاف جہاد کرتے رہے۔ وہ ڈاکٹر امبیڈکر کے ساتھیوں میں سے تھے۔ ہریجنوں کو ہندوستانی سماج میں برابر کا درجہ دینے کے لئے ستیہ گرہ اور ایجی ٹیشن کرتے رہے۔ بار بار جیل گئے، وغیرہ۔ موجودہ زمانہ میں جو بھی اصلاح کے لئے اٹھتا ہے، وہ ستیہ گرہ اور ایجی ٹیشن کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ یہی طریقہ مسلم رہنماؤں نے بھی اختیار کر رکھا ہے۔ خاموشی کے ساتھ ذہن بنانا اصل کام ہے، مگر اس کے لئے کوئی بھی کام نہیں کرتا، نہ مسلمانوں میں اور نہ غیر مسلموں میں۔ مانٹگمری واٹ (W. Montgomery Watt) کی ۴۰۷ صفحات کی ایک کتاب ہے جس کا نام یہ ہے :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader