آغازِ کلام
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ کتاب اگر چہ اسلام کی تعریف پر ہے، مگر اس کا نام سخت مغالطہ آمیز ہے۔ اس نام کو دیکھ کر شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ اسلام اپنی ساری عظمتوں کے باوجود، ماضی کی چیز تھا، وہ مستقبل کی چیز نہیں۔ مصنف نے کتاب کے پانچویں باب میں فلکیات کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ فلکیات عربوں کے لئے ایک عملی سائنس تھی، کیوں کہ ان کے لئے یہ ضروری تھا کہ وہ ہر اسلامی شہر سے مکہ کے رخ کو جانیں تاکہ نمازوں کے وقت اپنے چہرہ کا رخ اس کی طرف کر سکیں: یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کے عبادتی اعمال نا قابلِ فہم رسوم نہیں ہیں، بلکہ ان کا رشتہ پختہ انسانی علوم سے جڑا ہوا ہے۔ نماز کا تعلق سمتوں کے علم سے ہے۔ اسی طرح روزوں کا تعلق کلنڈر سے، زکوٰۃ کا تعلق علم الحساب سے، حج کا تعلق علم جغرافیہ سے۔ وغیرہ ۴ اپریل ۱۹۸۹ آجکل میرے اوپر موت کا خیال اتنا زیادہ چھایا ہوا رہتا ہے کہ میں اوپر جانے کے لئے سیڑھی پر چڑھتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں خدا کی طرف چڑھ رہا ہوں۔ اور جب سیڑھی سے نیچے اترتا ہوں تب بھی مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں خدا کی طرف اتر رہا ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ اب زندگی کی کشتی ساحل کے قریب پہنچ گئی۔ اب جلد ہی غالبؔ میرے اوپر وہ وقت آجائے گا جو دوسرے تمام لوگوں پر گزر چکا ہے۔ ۱۵ اپریل ۱۹۸۹ ایک نو مسلم نوجوان ملاقات کے لئے آئے۔ ان کا سابقہ نام شیام پر تاپ سنگھ گوتم تھا۔ موجودہ نام محمد عمر ہے۔ وہ ۱۹۴۷ میں فتح پور (الہ آباد) میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۸۳ میں اسلام قبول کیا۔ پہلے انھوں نے بی ایس سی کیا تھا۔ اب وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader