آغازِ کلام
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
کر رہے ہیں۔ وہ ہندوؤں میں تبلیغ بھی کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھ پر تقریبا دس ہندو اسلام قبول کر چکے ہیں۔ وہ ہندی اور سنسکرت دونوں زبانیں جانتے ہیں۔ انھوں نے گیتا، رام چرت مانس، اور اور ویدوں کو پڑھا تھا۔ انھیں ہندوازم پر اطمینان نہ ہو سکا۔ چنانچہ انھوں نے تقابلی مطالعہ شروع کیا۔ آخر اسلام پر مطمئن ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ انھوں نے بتایا کہ اللہ نے اپنے آپ ان کا دل بدل دیا۔ وہ موت کے بارہ میں بہت زیادہ سوچتے تھے۔ مرنے کے بعد آدمی کی روح کہاں جاتی ہے۔ عمل کیا ہے۔ انسان کا آخری انجام کیا ہونے والا ہے۔ ان کے اندر تلاشِ حق کا جذبہ ابھرا۔ چنانچہ راتوں کو اکثر وہ رویا کرتے تھے۔ رات رات بھر نیند نہ آتی۔ ان کے دوست ان کو پاگل کہنے لگے۔ انھوں نے قرآن کا ہندی ترجمہ پڑھا۔ اس سے ان کے دل کو اطمینان ہوا۔ آخر کار انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ کچھ ہندوؤں نے انھیں مسلمانوں کے غلط کردار کو بتا کر انھیں اسلام سے پھیرنا چاہا، انھوں نے کہا: میں اللہ کا سلمان ہوں، میں مسلمانوں کا مسلمان نہیں ہوں۔ ۷ اپریل ۱۹۹۸ء پیاسے لال بھون (نئی دہلی) کے ایک اجتماع میں شریک ہوا اور منتظمین کی دعوت پر مختصر تقریر کی۔ یہ اجتماع ایک انگریزی کتاب کے اجرا، (Release) کی تقریب پر کیا گیا تھا۔ یہ کتاب ڈاکٹر ماجد علی خاں نے The Satanic Verses کے جواب میں لکھی ہے۔ اور اس کا نام The Holy Verses ہے میرا تاثر یہ تھا کہ کوئی شخص بھی سنجیدہ نہیں۔ نہ سننے والے اور نہ سنانے والے۔ جو صاحب اس اجتماع کے چیف گیسٹ تھے، انھوں نے اپنی تقریر میں "سلمان رشدی" کا نام نہیں لیا۔ انھوں نے کہا کہ میں اس ملعون کا نام لے کر اپنی زبان لو گندا نہیں چاہتا۔ ان کے اس جملہ پر زوردار تالیاں بجائیں۔ مگر جب وہ اپنی تقریر کو مکمل کر کے واپس آئے تو میں نے سنا کہ سب سے پہلے انھوں نے سلمان رشدی کا نام لیا اور کہا کہ مذکورہ چیف گیسٹ کے درمیان صدر صاحب، مٹھو میاں تھے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader