Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص اپنا ذہنی رشتہ ابن رشد سے جوڑتا ہے ، کیوں کہ وہ بھی ایک گمراہ آدمی تھا۔ جان رے (John Ray) کا قول ہے کہ ــــ مشورہ اس وقت سب سے سجا جاتا ہے جب کہ اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے: Advice when most needed is least heeded. اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی خواہش کے زیر اثر ایک بات سوچتا ہے ، اور اس کے مطابق کام کرنا چاہتا ہے۔ دوسرا شخص جو اس خواہش سے مغلوب نہیں ہے ، وہ اس کے خلاف مشورہ دیتا ہے۔ مگر مذکورہ آدمی اس کے مشورہ کو قبول نہیں کرتا۔ وہ جو کچھ کرنا چاہتا تھا اس کو کر ڈالتا ہے ۔ بعد کو نتیجہ سامنے آنے کے بعد اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا اقدام غلط تھا۔ اب وہ مشورہ کی اہمیت کو محسوس کرتا ہے ، مگر وقت گزرنے کے بعد۔ سب سے زیادہ عقلمند وہ ہے جو ایک صحیح مشورہ کی اہمیت کو آغاز میں سمجھ لے۔ اور سب سے زیادہ نادان وہ ہے جو صحیح مشورہ کی اہمیت کو آخر میں سمجھے۔ ۸ اپریل ۱۹۸۹ ام درداء سے روایت ہے کہ ابو الدرداء گھر میں آئے۔ وہ غصہ میں بھرے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کا کیا حال ہے۔ انھوں نے کہا کہ خدا کی قسم میں آج کل کے مسلمانوں میں محمد کے دین کی کوئی چیز اس کے سوا نہیں دیکھتا کہ وہ ایک ساتھ نماز پڑھتے ہیں (عن ام الدرداء قالت دخل علی ابو الدرداء مغضباً فقلت له مالك۔ فقال: والله ما اعرف فيم شيأً من أمر محمداً الا انهم يصلون جميعاً ، رواه البخاری) دورِ اول میں جب کہ ابھی اصحاب رسول زندہ تھے، اس وقت لوگوں کا یہ حال ہو چکا تھا تو آج ۱۴۰۰ سال بعد ان کا حال کیا ہوگا، مذکورہ حدیث سے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دینداری اس کا نام نہیں کہ نماز ، روزہ کا ڈھانچہ مسلمانوں میں موجود ہو یا اسلام کے نام پر جلسہ، جلوس یا تقریروں اور تحریروں کے ہنگامے جاری ہوں۔ دیندار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page