Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان دراصل وہ ہے جس کے اندر اللہ کا ڈر ایک نفسیاتی زلزلہ پیدا کر دے اور آخرت کی فکر اس کی پوری زندگی کو دنیا رخی کے بجائے آخرت رخی بنا دے۔ یہی وہ دین ہے۔ جو حضرت ابو الدردا کو بعد کے زمانہ میں بہت کم دکھائی دیتا تھا، اور موجودہ زمانہ میں تو وہ صفر کے درجہ میں غیر موجود ہو چکا ہے۔ ۱۹ اپریل ۱۹۸۹ء ڈینیل ویبسٹر (Daniel Webster) کا قول ہے کہ ـــــ جبر و تشدد انقلاب کا بیج ہے : Repression is the seed of revolution. انقلاب“ کو عام طور پر تبدیلیِ احوال کے معنی میں لیا جاتا ہے۔ لیکن اگر اس کو تبدیلی حکومت کے معنی میں لیا جائے تو یہ قول بالکل درست ہے۔ موجودہ زمانہ کے تمام نام نہاد انقلاب اور نام نہاد لیڈر جبر و تشدد کی زمین پر آ بھرے ہیں۔ ایک حکومت اقتدار کے گھمنڈ میں ظلم کرتی ہے۔ اس ظلم کو کچھ لوگ مبالغہ آمیز انداز میں بیان کرتے ہیں۔ اور پھر ان کے گرد عوام کی بھیڑ جمع ہو جاتی ہے۔ حکمران گروہ کے خلاف ایک سیاسی ہنگامہ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ پرانے حکمران ہٹ جاتے ہیں اور نئے افراد ان کی جگہ پر سیاسی کرسیوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ اسی سیاسی واقعہ کا جھوٹا نام انقلاب ہے۔ مگر با اعتبار حقیقت یہ افراد کی تبدیلی ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں نظام کی تبدیلی۔ نظام کی تبدیلی پورے سماج میں ذہنی اور شعوری تبدیلی سے آتی ہے نہ کہ محض چند افراد کی سیاسی اور حکومتی تبدیلی سے۔ ۱۰ اپریل ۱۹۸۹ ٹائم (۲۰ مارچ ۱۹۸۹ء) کی کور اسٹوری ڈی این اے (DNA) کے بارہ میں تھی جس کا عنوان تھا ــــ وراثتی رازوں کو حل کرنے کی کوشش : Solving the mysteries of heredity مضمون سے ظاہر ہوتا تھا کہ ڈی این اے کے بارہ میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، وہ ارتقائے حیات کے قدیم تصور سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page