Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مضمون کے بارے میں کچھ خطوط ٹائم (۱۰ اپریل ۱۹۸۹) میں شائع ہوئے۔ ٹائم کے ایک ریڈڑ مسٹر بیورلی کورو (Beverly Chorro) نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ جو شخص ان مضامین کو پڑھے اور اب بھی اس کی یہ خواہش ہو کہ وہ تخلیق کا کریڈٹ خدا کے بجائے ارتقا کو دینا چاہے تو وہ یا تو بے عقل ہے یا اتنا زیادہ مغرور ہے کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنا نہیں جانتا: ۱۱ اپریل ۱۹۸۹ سوڈان کے شمالی حصہ میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ خرطوم اسی میں شامل ہے۔ جنوبی سوڈان کے نسبتاً چھوٹے علاقہ میں عیسائیوں کی اکثریت ہے۔ اس علاقہ کی عیسائی آبادی اس کی خود مختاری کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ۱۹۸۹ کے آغاز میں انھوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لئے مسلح بغاوۃ کر دی۔ ٹھیک یہی کام دنیا کے مختلف ملکوں (مثلاً لنکا، فلپائن، اریٹریا، برما، وغیرہ میں مسلمان کر رہے ہیں۔ انھیں جہاں کہیں علاقائی اکثریت حاصل ہے، وہ وہاں مسلح یا غیر مسلح تحریک چلا رہے ہیں کہ اس حصہ کو الگ کر کے وہاں انھیں آزاد مسلم حکومت بنانے کا موقع دیا جائے۔ نام نہاد مسلم پریس ان دونوں قسم کے واقعات کو بیان کرتا ہے، تو اس کے لئے اس کے پاس دو زبان ہوتی ہے۔ عیسائی علیحدگی کی تحریک کو وہ بغاوت قرار دیتا ہے، اور مسلم علیحدگی کی تحریک کو جہاد آزادی۔ میرے نزدیک یہ اسلام نہیں۔ یہ قومی سرکشی ہے۔ جو لوگ ایسی سرکشی کریں، وہ خود اپنے عمل سے اپنے آپ کو بے قیمت کر رہے ہیں۔ ۱۲ اپریل ۱۹۸۹ ۸ اپریل ۱۹۸۹ کو رمضان ۱۴۰۹ھ کی پہلی تاریخ تھی۔ کویت کے ماہنامہ الوعی الاسلامی (رمضان ۱۴۰۹ھ ــــ اپریل ۱۹۸۹ء) میں روزہ سے متعلق حدیثیں پڑھتے ہوئے یہ حدیث سامنے آئی : رب صائم حظہ من صيامه الجوع والعطش (رواه ابن ماجه، والنسائی ، والحاكم)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page