Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی بہت سے روزہ دار ہیں جن کو اپنے روزہ سے بھوک اور پیاس حاصل ہوتی ہے۔ میں سوچنے لگا کہ ایسا کیوں ہے کہ ایک آدمی روزہ کے نام پر سارے دن بھوکا پیاسا رہے، اس کے باوجود اس کے حصہ میں روزہ نہ آئے بلکہ صرف بھوک پیاس آئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کھانا پینا بند کر کرنا یہ روزہ کی شکل ہے۔ یہی روزہ کی اصل حقیقت نہیں ہے۔ روزہ کی اصل حقیقت نفسیاتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر تقویٰ اور شکر کی کیفیت ابھرے۔ بھوک پیاس سے اگر یہ رہانی کیفیت ابھرے تو آدمی کا روزہ صبح معنوں میں روزہ بن گیا۔ اور جس کے اندر یہ رہانی کیفیت نہ ابھرے تو یہی وہ شخص ہے جس کو کھانا اور پینا چھوڑنے سے بھوک پیاس کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔ ۱۳ اپریل ۱۹۸۹ مجھے اپنی زندگی میں بعض ہندوؤں کی طرف سے تلخ تجربات پیش آئے ہیں۔ اس وقت فوری طور سے سخت رد عمل ہوتا ہے۔ مگر جلد ہی سوچنے لگتا ہوں کہ اس قسم کا، بلکہ بعض اوقات اس سے شدید تجربہ مجھے مسلمانوں کی طرف سے بھی ہورہا ہے۔ یہ دوسرا احساس پہلے احساس کی تلخی کو گھٹا دیتا ہے۔ جس تلخ تجربہ کو فوری رد عمل کے تحت میں ہندو کے ساتھ جوڑ رہا تھا، زیادہ غور و فکر کے بعد وہ تجربہ زندگی کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے جن مسلمانوں نے تقسیم ہند کی تحریک چلائی، ان کا معاملہ ہی تھا کہ انہوں نے پہلی حقیقت کو جانا مگر وہ دوسری حقیقت کو نہ جان سکے۔ اگر وہ وسیع دائرہ میں سوچتے تو وہ جان لیتے کہ جن مسائل کی بنا پر وہ ہندو انڈیا سے بھاگنا چاہتے ہیں، وہ مسائل مسلم انڈیا یا پاکستان میں بھی باقی رہیں گے۔ جیسا کہ وہ فی الواقع وہاں باقی رہے۔ بیشتر انسان معاملات کو صرف سطحی طور پر دیکھ پاتے ہیں۔ وہ اپنی کم فہمی کی بنا پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان کے لئے انتخاب برائی (EVIL) اور بے برائی (No Evil) کے درمیان ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں انتخاب ہمیشہ چھوٹی برائی (Lesser evil) اور بڑی برائی (Greater evil) کے درمیان رہتا ہے۔ اس دنیا میں کامیابی صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو اس راز کو پالیں، جو لوگ اس راز کو نہ پائیں، وہ امتحان کی اس دنیا میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page