Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

بنارس ترکیب حیدر آباد اعظم گڑھ غازی پور ان غیر معیاری عربی جرائد کی کثرت کا راز میری سمجھ میں اس وقت آیا جب مذکورہ جریدہ نمبر ۹ پر تبصرہ میں نے البعث الاسلامی (مئی ۱۹۸۹ء، شوال ۱۴۰۹ھ) میں دیکھا۔ تبصرہ نگار نے لکھا ہے کہ ہندوستان میں بہت سے مجلات اور صحف عربی زبان میں نکل رہے ہیں۔ اس قسم کے اسلامی پرچوں کا خاص مقصد یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں اور عالم عربی کے مسلمانوں کے درمیان وہ ربط و تعلق کا ذریعہ بنیں (ان الهدف الرئيسي من مثل هذه المجلات الاسلامية التي تصدر باللغة العربية ان تكون همزة وصل بين الهند الاسلامية والعالم الاسلامی (العربی، صفحہ ۹۹) مسلمانوں اور ہندوؤں میں دعوتی ربط و قائم کرنے کے لئے ہندی پر چہ یا مسلمانوں اور عیسائیوں میں دعوتی ربط و قائم کرنے کے لئے انگریزی پر چہ کسی ادارہ نے نہیں نکالا۔ البتہ مسلمانوں اور عربوں کے درمیان ربط و قائم کرنے کے لئے ہر ادارہ نے تیسرے درجہ کا ایک عربی پرچہ ضرور نکال رکھا ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ اور وہ اتنی واضح ہے کہ اس کو لفظوں میں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ ۱۷ اپریل ۱۹۸۹ پاکستان کی جماعت اسلامی کے موجودہ امیر قاضی حسین احمد صاحب کا ایک مضمون پڑھا۔ اس کا عنوان ہے "عالم اسلام کے مسائل اور ان کا حل"۔ اس مضمون میں افغانستان کے بارہ میں گفتگو کرتے ہوئے یہ سطریں درج ہیں : " افغانستان کی سرزمین پر مجاہدین کی آخری مکمل فتح کا آغاز ہو چکا ہے۔ روسی فوج کی افغانستان سے واپسی ایک نئے دور کی ابتدا ہے جو اسلام کی نشأۃ ثانیہ پر منتج ہو سکتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page