آغازِ کلام
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، اہم ترین چیز یہ ہے کہ افغان جہاد محض جنگ آزادی نہیں۔ یہ اسلام کو عملاً اللہ کی سرزمین پر نافذ کرنے کی جدوجہد ہے، اور یہی اس جدوجہد کا طرہ امتیاز ہے۔ افغان جہاد کی کامیابی محض مسلمانوں کی قوت و شوکت نہیں، دور جدید میں ایک خالص اسلامی حکومت کی بنیاد رکھنے کا تاریخ ساز واقعہ ہے: روزنامہ وفاق، لاہور، ۱۹ اپریل ۱۹۸۹ یہ بیان احمقانہ حد تک بے معنی ہے۔ افغانستان کی جنگ بلاشبہ ایک قومی جنگ ہے۔ اس کا آخری انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ایک جنگ ختم ہو کر دوسری جنگ شروع ہو جائے۔ جو لوگ اس جنگ کے نتیجہ میں اسلام کی نشأۃ ثانیہ، اور خالص اسلامی حکومت کا خواب دیکھ رہے ہیں، وہ صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ سوچنے کی صلاحیت سے بالکل محروم ہیں۔ تاہم ایک اور کام کے لئے یہ لوگ بے حد ہوشیار ہیں۔ آئندہ جب افغانستان میں " خالص اسلامی حکومت " قائم نہ ہو سکے گی تو فوراً اُن کا زرخیز دماغ کچھ ایسی بیرونی سازشیں دریافت کرلے گا جس نے سارا نقشہ بگاڑ دیا اور اسلامی حکومت بنتے بنتے رہ گئی۔ گویا حق کے عوامل کمزور ہیں اور باطل کے عوامل اس سے زیادہ طاقتور۔ ۱۱اپریل ۱۹۸۹ حضرت عمر بھی صحابی تھے اور حضرت بلال بھی صحابی تھے۔ مگر دونوں کے یہاں بڑے عجیب فرق پائے جاتے ہیں۔ حضرت بلال مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو ان کی شدید تکلیف کو دیکھ کر ان کے اہل خانہ کی زبان سے نکلا ؛ وا کر باه ( ہائے تکلیف ) حضرت بلال نے اس کو سنا تو انھوں نے کہا کہ نہیں، بلکہ ہائے خوشی۔ کل کے دن میں اپنے دوستوں سے ملوں گا، محمد سے اور ان کے ساتھیوں سے ( روایتها، غداً القى الأحبة محمد وأحبه) العبقريات الاسلامیہ، صفحه ۱۸۲ حضرت عمر کا واقعہ اس سے بالکل مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ حضرت عمر پر ابولولو فیروز ایرانی نے عین اس وقت حملہ کیا جب کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ اس نے کئی خنجر مار کر آپ کو زخمی کر دیا۔ خنجر اتنے پشت پر تھا کہ موت یقینی ہو گئی۔ اس وقت آپ کا زراں ( زباں) سے جو کلمات نکلے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader