آغازِ کلام
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کی وجہ یہ ہے کہ انگریزی زبان پوری دنیا میں بیشتر پڑھے لکھے لوگوں کی قابل فہم زبان ہے، وہ واحد زبان ہے جس کو انٹرنیشنل زبان کا درجہ دیا جاسکتا ہے۔ نیز انگریزی زبان میں ہر قسم کا وسیع لٹریچر موجود ہے۔ گنتی کے اعتبار سے دوسری زبانوں کو اوپر کا درجہ مل سکتا ہے مگر اہمیت کے اعتبار سے انگریزی نمبر ایک حیثیت رکھتی ہے۔ ۱۹ اپریل ۱۹۸۹ دور جدید میں مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے لئے اٹھنے والا پہلا ممتاز نام غالباً سید جمال الدین افغانی کا ہے۔ ان کی مزید خوش قسمتی یہ تھی کہ ان کو دو ایسی قابل شخصیات ملیں جنہوں نے ان کی تحریک کو ان کے بعد پوری طاقت کے ساتھ جاری رکھا۔ اس طرح جمال الدین افغانی سمیت تین اعلیٰ افراد کے ذریعہ یہ مشن پوری ایک صدی تک مسلسل جاری رہا۔ جمال الدین افغانی ١٨۳۸ ۱۸۹۷ مفتی محمد عبدہ ۱۸۴۹ ۱۹۰۵ محمد رشید رضا ۱۸۵۶ ۱۹۳۵ ملت کے انتہائی قیمتی افراد کے ذریعہ جاری رہنے والی اس سوسالہ جدوجہد کا کوئی حقیقی نتیجہ آج دیکھنا چاہیں تو وہ کہیں نظر نہیں آئے گا۔ ان کی تمام کوششیں ان کی زندگی میں پرشور الفاظ کی صورت میں گونجتی رہیں اور بالآخر ختم ہو کر رہ گئیں۔ ان مصلحین کے ذریعہ جو کام تقریباً سو سال تک جاری رہا، اس کو مختصر طور پر ان تین شقوں میں بیان کیا جاتا ہے: ا مسلمانوں کے ذہن و فکر کی اصلاح ۲ مسلم ملکوں کے حکام کی اصلاح ۳ سامراجی طاقتوں کی سازشوں کی نشاندہی اور ان کے خلاف دنیا کے مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنا۔ مالی ایوان افہاری اور ان کے ساتھ کہ ان کے ساتھ راضی تو صرف پہلے کام پر لگاتے اور دوسرے اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader