Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 77

By Maulana Wahiduddin Khan

میں سے کوئی ایک بھی انجام نہ پائے ۔ اسلامی فقہ کا ایک قاعدہ یہ ہے کہ مصالح کے حصول پر مفاسد اور خرابیوں کو دور کرنا مقدم ہے ( درء المفاسد مقدم علی جلب المصالح ) یہ ایک نہایت اہم اصول ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں پیشگی طور پر خیر کی طرف رجحان موجود ہے۔ اگر ماحول سے غلط محرکات کا خاتمہ کر دیا جائے تو انسان خود اپنی اندرونی فطرت کے زور پر خیر کو اختیار کرنے لگے گا۔ پانی کہیں رکا ہوا ہو تو رکاوٹ کو دور کرنا کافی ہے، اس کے بعد پانی اپنے آپ بہنے لگتا ہے۔ ۲۱ اپریل ۱۹۸۹ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب (لاہور) کا ایک رسالہ حکمت قرآن ہے۔ اس کا شمارہ ماہ اپریل ۱۹۸۹ میں انھوں نے ۲۶ صفحات کا ایک مضمون شائع کیا ہے۔ اس کا عنوان ہے : واما بنعمة ربّك فحدث۔ اس مضمون کے آغاز میں ڈاکٹر صاحب نے لکھا ہے کہ راقم الکتاب جتنا بھی شکر کرے کم ہے کہ اس نے قرآن کے ضمن میں اس کی مساعی کو اس درجہ بار آور کیا کہ اس کے نام کو دنیا بھر میں کم از کم اردو بولنے والوں کی حد تک دعوت رجوع الى القرآن کے جلی عنوان کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ اس کے بعد انھوں نے ربع صدی کے دوران اپنی کوششوں کا تفصیلی تذکرہ کرنے کے بعد لکھا ہے کہ الحمد للہ دل کو یہ گہرا اطمینان حاصل ہے کہ : ''جنوں میں جتنی بھی گزری بیکار گزری ہے !‘‘ کے مصداق عمر کے بہتر اور بیشتر حصے کے دوران جسم و جان کی بہتر اور بیشتر توانائیاں نوید نبوی : ''خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ‘ کے مطابق بہترین کام میں صرف ہوئی ہیں۔ گویا شکر ہے شد شکر کہ جہت نہ بہ منزل رسید!‘‘ اس کے ساتھ ہی دل میں اس امید کا چراغ بھی روشن ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس کی توفیق عطا فرمائی تو لغزشوں ، خطاؤں اور کوتاہیوں سے درگزر فرماتے ہوئے شرف قبول بھی ضرور عطا فرمائے گا۔ حکمت قرآن اپریل ۱۹۸۹ ، صفحہ ۱۲ - ۱۱

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page