Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

عجیب بات ہے کہ اس معاملے میں میرے احساسات ڈاکٹر صاحب سے بالکل مختلف ہیں۔ اگر چہ بظاہر میرے کام کی نوعیت بھی وہی ہے جو ڈاکٹر صاحب کے کام کی ہے۔ گر چہ میں ایک تنکے کے بقدر بھی اپنے کاموں کی کوئی قیمت نہیں سمجھتا۔ میری دعا ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ میرا عمل، خواہ وہ برا ہو یا بظاہر اچھا، ان سب کو خدا میرے نامہ اعمال سے حذف کر دے، اور مجھے صرف اپنے رم و کرم سے بخش دے۔ " شکر کہ جنازہ جنرل رسید" کے بجائے میری زبان پر اکثر یہ شعر رہتا ہے - صبح گزری شام ہونے آئی میر تو نہ جیت اور بہت دن کم رہا ۲۲ اپریل ۱۹۸۹ نئی دہلی کے جس مکان میں میں رہتا ہوں، وہ دو منزلہ ہے۔ نیچے سے اوپر تک اس کی ۳۶ سیڑھیاں ہیں۔ آج رمضان ۱۴۰۹ھ کی ۱۵ تاریخ تھی۔ رات کو سحری کے لئے اوپر جانے لگا۔ تقریباً ۳۰ سیڑھیاں طے کی تھیں کہ اچانک موت کا خیال آگیا۔ میری عمر اب ۶۵ سال ہو چکی ہے۔ اب میں زندگی کے مقابلے میں موت سے زیادہ قریب ہوں۔ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہو گیا کہ میں دنیا سے آخرت کی طرف جا رہا ہوں۔ یہ سوچ کر دل بھر آیا۔ زبان پر یہ الفاظ آگئے: " زندگی کی بیشتر سیڑھیاں چڑھ چکا ، اب آخری چند سیڑھیاں باقی ہیں: ۲۳ اپریل ۱۹۸۹ اپریل کا پورا مہینہ کشمیر کے لئے تشدد کا مہینہ تھا۔ توڑ پھوڑ، گولی اور بم۔ یہ سب وہاں کے مسلم نوجوان کرتے رہے۔ اس سلسلے میں ایک کشمیری حسنین اختر (فتح کدل ، سرینگر) کا مراسلہ قومی آواز، ۲۴ اپریل ۱۹۸۹ میں شائع ہوا ہے۔ اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر کے نوجوانوں کو کس چیز نے شر پسندی پر اکسایا؟ اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ دہشت گرد او ر تخریب کار حکومت سے مندرجہ ذیل مطالبے کر رہے ہیں: ۱۔ غیر کشمیریوں کو باہر نکال دیا جائے۔ ۲۔ جمعہ کے دن عام تعطیل کی جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page