Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

۳۔ ریسٹوران وباہر رمضان کے مہینہ میں بند رکھے جائیں۔ ۴۔ عورتیں پردے میں رہ کر باہر نکلیں ۔ ہر سال موسم گرما میں لاکھوں کشمیری تجارت اور روزگار کے لئے پورے بھارت میں جاتے ہیں۔ اگر ہندوستانیوں کے لئے کشمیر کا دروازہ بند کر دیا جائے تو کشمیریوں کے لئے ہندوستان کا دروازہ کس منطق سے کھلا رہے گا۔ کشمیر میں مسلمانوں کے لئے یہ خصوصی سہولت ہے کہ وہاں جمعہ کے دن نماز کے لئے دو گھنٹہ کی چھٹی دی جاتی ہے۔ اتوار کی چھٹی اس کے علاوہ ہے۔ ایسی حالت میں اگر اتوار کی چھٹی ختم کر کے جمعہ کے روز چھٹی دی جانے لگے تو اس سے کشمیریوں کو کیا فائدہ ہوگا۔ کشمیر میں ۸۰ فیصد سے زیادہ ہوٹل مسلمانوں کے ہیں۔ اور وہاں کی بیشتر آبادی بھی مسلمان ہے۔ ایسی حالت میں مسلمان اگر روزہ کی پابندی کریں تو ان کے ہوٹل اپنے آپ بند ہو جائیں گے۔ یہ مطالبہ مسلمانوں سے کیا جانا چاہئے نہ کہ موجودہ سیکولر حکومت سے۔ کشمیر کی ۹۰ فیصد آبادی مسلمان ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہاں کی آبادی میں ۹۰ فیصد مسلمان عورتیں ہیں۔ اگر مسلمانوں کے درمیان پردے کا رواج ہو تو چوتھا مطالبہ اپنے آپ حاصل ہو جائے گا۔ یہ کام بھی خود مسلمانوں کو کرنا ہے۔ اس کا ہندوستان کی سیکولر حکومت سے کیا تعلق۔ ۲۴ اپریل ۱۹۸۹ آسکروائلڈ (Oscar Wilde) نے کہا کہ عدم قناعت ترقی کا پہلا زینہ ہے، ایک فرد کے لئے بھی اور ایک قوم کے لئے بھی : Discontent is the first step in the progress of a man or nation. آدمی کے اندر ہر قسم کی صلاحیتیں پیدائشی طور پر موجود ہیں۔ مگر عام حالت میں وہ سوئی ہوئی رہتی ہیں۔ جب کوئی ٹھیس لگتی ہے یا کوئی محرومی پیش آتی ہے تو اس کے نتیجے میں آدمی کے اندر عدم قناعت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت اس کی سوئی ہوئی طاقتیں جاگ پڑتی ہیں۔ اس وقت وہ ایسے کام کر گزرتا ہے جو وہ عام حالت میں نہیں کر سکتا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page