Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

آدمی اپنی موجودہ حالت پر مطمئن ہو جائے تو وہ جہاں ہے وہیں پڑا رہے گا۔ اور جب وہ اپنی حالت پر مطمئن نہ ہو تو مزید آگے بڑھنا چاہیے گا۔ اس طرح عدم قناعت آدمی کے محرک عمل کا کام کرتی ہے۔ ۲۵ اپریل ۱۹۸۹ عربی میں جس چیز کے لئے ”لا حبّ علی بل لبعض معاویہ“ کی مثل ہے، اسی کو اردو میں کہا جاتا ہے ــــ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔ مجھے اپنی زندگی میں اس کی ایک مثال مولانا ابوالحسن علی ندوی اور ان کے حلقہ کی صورت میں نظر آئی۔ مولانا موصوف میری بعض تنقیدوں کی وجہ سے مجھ سے خفا ہیں۔ چنانچہ آجکل وہ میرے ” دشمن “ محمد ہاشم قاسمی کے دوست بن گئے ہیں جنھوں نے ہمارے مرکز کی بلڈنگ (حیدر آباد) پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور مرکز کے اکاونٹ میں خیانت کرکے اس کو اپنی ملکیت بنا لیا ہے۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی اور ان کا حلقہ آجکل محمد ہاشم قاسمی کی زبردست پذیرائی کر رہا ہے۔ محمد ہاشم قاسمی صاحب نے عرب کا ایک سفر کیا۔ اس کے سفر نامہ میں وہ لکھتے ہیں کہ سعودی عرب کا یہ سفر مولانا ابوالحسن علی ندوی کے مخلصانہ تعاون سے کامیابی سے ہمکنار ہوسکا (الفیصل اگست ۱۹۸۸) مولانا ابوالحسن علی ندوی حیدر آباد کے سفر پر تھے۔ اس سلسلہ میں وہ محمد ہاشم قاسمی کی دعوت پر یکم جنوری ۱۹۸۹ کو ہمارے مرکز کی مغصوبہ بلڈنگ میں بھی گئے۔ اس طرح گویا انھوں نے محمد ہاشم قاسمی کے غصب اور خیانت کی تصدیق فرمائی (تعمیر حیات ۱۰ مارچ ۱۹۸۹ ، صفحہ ۴) مولانا ابوالحسن علی ندوی کے حلقہ کے ایک خاص بزرگ مولانا عبداللہ عباس ندوی ہیں۔ محمد ہاشم قاسمی نے مولانا عبداللہ عباس ندوی کا مغصوبہ مرکز میں استقبالیہ دیا۔ عبداللہ عباس صاحب اپنے پرچہ ” ذکر و فکر “ میں سفرنامہ کے ذیل میں لکھتے ہیں ” مولانا ہاشم القاسی کے ادارہ میں استقبالیہ تھا۔ عصرانہ پر تکلف تھا۔ خلوص اور ذوق کے ساتھ کس طرح کام کیا جائے، یہ ادارہ اس کا اچھا نمونہ ہے (ذکر و فکر، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۹-۱۰) یہ مضمون دوبارہ تعمیر حیات، مئی ۱۹۸۹ میں نقل کیا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page