Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ واقعات بتاتے ہیں کہ ان لوگوں میں اللہ کی ناراضگی کا اتنا بھی خوف نہیں ہے جتنا کہ کسی عرب شیخ کی ناراضگی کا۔ مولانا علی میاں ایسا نہیں کر سکتے کہ وہ سعودی عرب کے دشمن کو اپنا دوست بنائیں، مگر وہ وحید الدین خاں کے دشمن کو اپنا دوست بنا رہے ہیں۔ یہ فرق واضح طور پر اس کا ثبوت ہے کہ مولانا موصوف کو سعودی عرب کا خوف ہے مگر انہیں اللہ کا خوف نہیں۔ ۲۶ اپریل ۱۹۸۹ میری زندگی کا تلخ ترین تجربہ یہ ہے کہ آدمی کے اوپر جب تک تجربات کا رولر نہ چلے، وہ کسی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا۔ انسان کو عقل دی گئی ہے۔ اس اعتبار سے انسان کو چاہئے تھا کہ وہ نظری دلیل کو مان کر حقیقت کا اعتراف کرلے۔ مگر کم از کم میرے تجربہ میں اب تک کوئی ایسا انسان نہیں آیا۔ میں نے جن انسانوں کو سنایا جانا، وہ سب وہی تھے جن کو حالات کا دباؤ تو منوا سکتا تھا مگر نظری دلیل کی طاقت ان کے لئے بالکل غیر مؤثر تھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ باعتبار حقیقت ایسے انسانوں کا درجہ کیا ہے۔ مگر میرے خیال کے مطابق تو یہ زندگی کی حیوانی سطح ہے نہ کہ زندگی کی انسانی سطح۔ ۲۷ اپریل ۱۹۸۹ آج صبح فجر کی نماز کے لئے کالی مسجد (نظام الدین) جارہا تھا۔ راستہ میں ایک جگہ سڑک پر نیم کی پتیاں پڑی ہوئی نظر آئیں۔ میں نے سوچا کہ نیم کی یہ پتیاں کس قدر خوش قسمت ہیں۔ کچھ دن وہ درخت پر سرسبز حالت میں رہیں۔ اس کے بعد وہ اپنی شاخوں سے ٹوٹ کر سڑک پر پڑی ہوئی ہیں۔ یہاں وہ مسافروں کے قدموں کے نیچے پامال ہوتی رہیں گی۔ یہاں تک کہ مٹ کرختم ہوجائیں گی۔ ان کے مقابلہ میں انسان کا معاملہ کتنا سخت ہے۔ انسان بھی زندگی کی شاخ پر کچھ دن ہرا بھرارہتا ہے۔ اس کے بعد موت آتی ہے اور اس کو شاخ سے جدا کر دیتی ہے۔ مگر یہ جدا ہونا اس کے لئے مٹنے کے ہم معنی نہیں ہوتا۔ بلکہ عالم الغیب کے سامنے حساب کے لئے حاضر ہونے کے معنی ہوتا ہے۔ یہی کا معاملہ کتنا زیادہ آسان ہے اور انسان کا معاملہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page